خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 115
115 ہیں۔پس ہم اگر اس وقت تبلیغ میں سستی ظاہر کرتے ہیں تو یہ ستی تربیت پر بھی برا اثر ڈالتی ہے اور جماعت اگر تعداد کے لحاظ سے کم ہوتی ہے تو دوسری طرف اس کی تربیت میں بھی کمی آجاتی ہے۔کیونکہ جب بھی تبلیغ سرد پڑ جائے گی اسی وقت تربیت بھی سرد پڑ جائے گی۔یہی وجہ ہے کہ دشمنوں کے مظالم ، دکھ اور تکالیف مومنوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرتی ہیں اور یہ تکالیف ہی ایسی چیز ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نصرت لا کر مومن کو اللہ تعالیٰ کا عینی مشاہدہ کرا دیتی ہیں۔تب وہ ایمان حاصل ہوتا ہے جو خطرے سے بچاتا ہے اور تمام لغزشوں سے انسان کو محفوظ رکھتا ہے۔پس میں تبلیغ کے لئے اگر چہ پہلے بھی کئی بار ا حباب کو توجہ دلا چکا ہوں مگر اب پھر توجہ دلاتا ہوں اور رچہ دوستوں کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ اپنی ستی کو دور کریں اور اس جوش سے تبلیغ کا کام کریں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر سال لاکھوں آدمی سلسلہ میں داخل ہونے شروع ہو جائیں۔( الفضل 14 جنوری 1932 ء۔خطبات محمود جلد 13 ص 325 ) اس ولولہ انگیز خطبہ کے بعد حضور نے ملک میں تبلیغ احمدیت کا ایک عام رجحان اور حرکت پید اکرنے کے لئے مجلس مشاورت 1932ء میں یہ فیصلہ بھی فرمایا کہ جماعت سال میں دو دفعہ یوم التبلیغ منائے۔ایک یوم التبلیغ ، غیر احمدی مسلمانوں کے لئے مخصوص ہو اور دوسرا غیر مسلموں خصوصاً ہند و اصحاب کیلئے۔نیز یہ ہدایت فرمائی کہ نظارت دعوۃ و تبلیغ ایسے قواعد بنائے کہ ہر احمدی اس تبلیغ میں مشغول ہو سکے اور اس غرض کے لئے باقاعدہ ایک سکیم بنائی جائے۔فہرستیں تیار کی جائیں اور اس کے ماتحت احمدی مردوں اور احمدی خواتین غرضیکہ تمام افراد جماعت کی نگرانی کی جائے کہ اس میں کہاں رپورٹ مجلس مشاورت 1932ء ص 44 تا 49) تک حصہ لیا گیا ہے۔پہلا یوم التبليغ: چنانچہ اس فیصلہ کے مطابق جماعت احمدیہ نے ملک بھر میں سب سے پہلا یوم التبلیغ 8 /اکتوبر 1932ء کو پورے جوش و خروش اور والہانہ اور فدائیانہ ذوق و شوق سے منایا اور مخالفین احمد بیت کی شر انگیزیوں کے باوجود اس کے نہایت شاندار نتائج برآمد ہوئے جن کی تفصیل سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے مبارک الفاظ میں درج کی جاتی ہے۔حضور نے فرمایا:۔جس غرض کو پورا کرنے کے لئے یہ دن مقرر کیا گیا تھا اس وقت تک جس حد تک نتائج میرے