تحریک وقف نو — Page 45
81 80 تمہارے علاوہ بھی سچائی پائی جاسکتی ہے اس نے کہا میرے نزدیک یہ شیطانیت ہے اور وقتا یہ بات درست ہے۔تو یہ جو نیک اثر اتنا اچھا چھوڑا۔ہمارے ایک مخلص احمدی دوست نے یہ وہاں ختم نہیں ہوا اس شخص تک ختم نہیں ہوا جس پر یہ اثر پڑا تھا بلکہ آگے وہ اس اثر کا مشعل بردار بن گیا ہے اور بااثر ہونے کی وجہ سے خدا کے فضل سے بڑے بڑے اچھے حلقوں میں وہ باتیں پہنچ رہی ہیں اور اللہ تعالے کے فضل سے وہ دوست جواب اس مجلس میں آئے تھے ان کے اندر بھی ایک نمایاں تبدیلی میں نے دیکھی، دلچپسی پائی اور بھاری اکثریت نے اس بات کا اظہار کیا کہ ہم اس دلچسپی کو مستقل کرنا چاہتے ہیں اور عارضی ملاقات نہیں ہوتی بلکہ ہم انشاء اللہ (انشاء اللہ تو انہوں نے نہیں کہا تھا یہ میں اپنی طرف سے داخل کر رہا ہوں) کہ ہم ضرور جماعت کے لٹریچر کا مطالعہ کریں گے چنانچہ ایک دوست نے جب ہم دوسرے دن روانہ ہوئے ہیں تو رستے میں ایک جگہ تھوڑی دیر کیلئے رکے وہاں انہوں نے اپنے احمدی دوست کو کہا ہوا تھا کہ جب وہ آئیں تو مجھے ضرور ملا ئیں میں نے ساتھ تصویر بھی کھنچوانی ہے اور باتیں بھی کرتی ہیں چناچہ انہوں نے بھی اسی قسم کے نیک خیالات کا اظہار کیا تو جماعت کیلئے جو دلچسپی پیدا ہو رہی ہے وہ (دین حق) کیلئے ایک عظیم دروازہ کھل رہا ہے اور یہی وہ رستہ ہے جس سے لوگوں نے دراصل (دین حق) میں داخل ہوتا ہے ارد گرد دیوار میں کھڑی کر دی گئی ہیں بہت سے مسلمان ممالک نے اپنے جاہلانہ رویے کے نتیجے میں اسلام کو بدنام کیا ہے اور جگہ جگہ ان رستوں کو بند کر دیا گیا ہے جن رستوں سے لوگ اسلام میں داخل ہو سکتے تھے اس لئے اب دروازہ اگر کوئی ہے تو جماعت احمدیہ کا دروازہ ہے۔لیکن اس دوازے کو وسیع کرنا یہ بنیادی مسئلہ ہے اور یہ دروازہ اس طرح تو نہیں ہے جس طرح ہماری مسجد کے سامنے دروازہ ہے یا آپ کے گھروں کے دروازے ہوتے ہیں یہ ایک تمثیلی دروازہ ہے جو وسعت اختیار کر سکتا ہے اور یہ وسعت احمدیوں نے اپنے عظمت کردار کے ذریعہ پیدا کرنی ہے ورنہ یہ دروازہ تنگ رہے گا اور کھلے گا نہیں ایک نعمان کی ضرورت نہیں ہے لاکھوں کروڑوں نعمانوں کی ضرورت ہے جو مختلف ملکوں میں پیدا ہوں اور اپنی عظمت کردار کے ذریعہ لوگوں کو دین حق کی طرف متوجہ کریں۔اور ان کے دل کے راستے سے لوگ پھر (دین حق میں داخل ہونا شروع ہوں ان کی آنکھوں کی راہوں سے (دین حق) کے حسن کا مطالعہ کریں اس نقطہ نگاہ سے دا عین الی اللہ کی ضرورت کی شدت محسوس ہو رہی ہے۔مگر اس نوع کے دائین الی اللہ جنکا میں بیان کر رہا ہوں کہ ان کے ساتھ ان کے کردار میں ایک حسن ایک کشش ہو۔بعض لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہمارا کردار ٹھیک ہے، ہم نمازیں پڑھتے ہیں ہم جھوٹ نہیں بولتے ہم کسی کا حق نہیں مارتے اور یہی تبلیغ ہے لیکن یہ غلط فہمی میں دور کرنا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم نے عظمت اکردار کی اہمیت بیان کرنے کے باوجود قول حسن کو پہلے رکھا ہے وَمَنْ نَحْسُ قَوْلاً مِمَّن دقایق اللہ ، اور گونگی شرافت کا نام نہیں لیا اور انبیاء کی تاریخ جو ہمارے سامنے پیش کی ہے اس میں کہیں بھی گونگی شرافت دکھائی نہیں دیتی۔بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ شرافت کو دیکھ کر اگر وہ گونگی ہو تو مخالفت ختم ہو جایا کرتی ہے اور لوگ یہ اصرار کرتے ہیں کہ تم شریفانہ زندگی بسر کرو لیکن منہ سے کچھ نہ بولو ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے تو دعول الی اللہ محض عظمت کردار سے نہیں ہوا کرتی اس کے لئے زبان کا حرکت میں آنا بہت ضروری ہے اور اس کے نتیجہ میں شرافت کے باوجود پھر کیا لفتیں پیدا ہوا کرتی ہیں لیکن جو شریف دل ہیں ان کو شرافت جیت لیتی ہے جو بد کردار لوگ ہیں یا کبھی رکھنے والے لوگ ہیں وہ اپنے دل کے مرض کا شکار ہو جایا کرتے ہیں لیکن بنیادی بات یہی ہے کہ ایسے