تحریک وقف نو — Page 44
79 78 ہے کرداروں کی دعا بھی سن لیتا ہے۔لیکن بندوں میں یہ بات کم دکھائی دیتی ہے خود ان کا کیسا بھی کردار ہو اگر کسی اچھے کام کی طرف بنانے والے میں معمولی سا نقص بھی پائیں تو اکثر وہ اس نقص کو ابھار کر پیش کرتے ہیں اور اسکی ساری اچھی باتوں کو اس وجہ سے رو کر دیتے ہیں کہ اس کہنے والے کے اندر یہ خرابی موجود ہے تو قرآن کریم سے جب یہ پتہ چلا کہ دعا کا بھی بنیادی طور پر عظمت کردار سے تعلق ہے اور استثنائی طور پر تو خدا کی رحمت لا محدود ہونے کی وجہ سے اللہ تعالی تو جب چاہے جسکی چاہے دعا سن لے یہ اسکی نفی نہیں ہو رہی مگر بندے بالعموم زیادہ سخت دل ہوتے ہیں زیادہ تنقید کرنے والے ہوتے ہیں اور ان پر وہی اچھا قول اثر کرتا ہے جس کے ساتھ عظمت کردار موجود ہو اس لئے مبلغ بننے کیلئے جماعت کو اپنے کردار کو بلند کرنے کی نہایت شدید ضرورت ہے اور جہاں دعوت الی اللہ کے وعدے ملتے ہیں وہاں مجھے یہی فکر شروع ہو جاتی ہے کہ دعوت الی اللہ کرنے والوں نے اپنے اندر کوئی پاک تبدیلی پیدا بھی کی ہے کہ نہیں جہاں کرتے ہیں وہاں پھل لگنے شروع ہو جاتے ہیں جہاں اس ضمن میں کوئی موثر اقدام نہیں ہوتا نہ جماعت کی انتظامیہ کی طرف سے نہ انفرادی طور پر وہاں فہرستیں تو بن جاتی ہیں مگر ان کو پھل نہیں لگتا اس معاملے کی اہمیت کا ایک مشاہدہ میں نے اپنے گزشتہ سفر ویلز (Wales) میں کیا۔ویلز میں چند دن کیلئے گیا تھا وہاں جماعت نے علاقے کے معززین کو سوال و جواب کی ایک مجلس کیلئے بلایا ہوا تھا۔میرے ساتھ بائیں ہاتھ وہاں کے شہر کے بہت ہی ہر دلعزیز دوست اور میٹر بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے مجھے کہا کہ آپ نے جو گزشتہ دفعہ یہاں تقریب منعقد کروائی تھی جس میں قرآن کریم کے ویلش ترجمے کی نقاب کشائی کی گئی تھی اس میں ایک لمبا سا آدمی جو انگریز تھا اور یارک شائر کی طرف سے آیا تھا وہ کون تھا میں نے ان کو غالبا" اس لحاظ سے تاریخی حیثیت رکھتے ہیں کہ پہلے و منش احمدی ہیں۔اس کے بعد ایک لیے عرصے تک وہ مجھے بار بار یہی کہتا رہا کہ اس شخص کے چہرے پر ایسی صداقت تھی اور اس صداقت کا ایک ایسا گہرا اثر میرے دل پر پڑ رہا تھا کہ اس سے باتیں کرتے کرتے مجھے یہ یقین ہو گیا تھا کہ یہ شخص سچا ہے اور جو بات کہہ رہا ہے اس میں دھوکہ نہیں ہو سکتا۔اس نے کہا میرے دل پر اتنا گہرا اثر چھوڑا ہے اس شخص نے۔حالانکہ تھوڑی ہیں باتیں ہوئیں لیکن میں نے جب ان کی چال ڈھال دیکھی ان کی باتوں کی طرز دیکھی ان کی آنکھوں کے اندر روشنی پائی تو مجھے وہ سرتا پا سچائی دکھائی دیا انہوں نے بتایا کہ اس وقت سے لیکر اب تک میں ہر مجلس میں یہ کہتا ہوں کہ تم جو بعض مسلمان ممالک کے رویے کے نتیجے میں اسلام کو کنڈیم (Condemn) کرتے ہو۔یہ درست نہیں ہے۔اس جگہ میں ان کو کہتا ہوں کہ میں نے ایسے مسلمان دیکھے ہیں جن سے تم سبق سیکھ سکتے ہو۔جو کردار اور اخلاق میں ایک معیار ہیں اور ایک نمونہ ہیں اس لئے سنجیدگی سے (دین حق) کے اندر اس کی تحقیق کی طرف توجہ کرو اور تمہیں اس میں بہت سی کچی باتیں دکھائی دیں گی۔پھر انہوں نے مجھے بتایا کہ جو کتابیں مجھے دی گئی تھیں میں ان کا مطالعہ کر رہا ہوں اور آئندہ بھی میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں دلچسپی لوں گا باوجود اس کے کہ میرا سیاسی کردار مجروح ہو رہا ہے اور لوگ یہ کہنے لگ گئے ہیں کہ یہ تو مسلمانوں کی طرف مائل ہو گیا ہے اور باوجود اس کے کہ بعض لوگ یہاں ایسے جاہل ہیں کہ جب میں ان کو سمجھاتا ہوں تو وہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ تم Devil کے اثر کے نیچے آگئے ہو لیکن میں ان کو کہتا ہوں کہ بتایا کہ وہ نعمان نیومین ہیں اور ویلز سے ہی تعلق رکھتے ہیں اور و پیش احمدی ہیں اور تمہاری یہ جہالت اصل میں Devil کا اثر ہے کیونکہ سچائی کی تلاش کا نہ ہونا جہالت ہے اور سچائی کی طرف سے آنکھیں بند کر لیتا اور اس امکانی راستے کو ہمیشہ کیلئے بنھ کھو دیتا کہ