تحریک وقف نو — Page 46
83 82 وا حسین الی اللہ کی ضرورت ہے جن کی زبان بھی قول حسن پر قائم رہے اور قول حسن کی تعریف میں پہلے بارہا کر چکا ہوں اس میں دلیل کی بات نہیں ہے صرف اس میں حسن کلام کی بات ہے یعنی ایسے رنگ میں بات کی جائے جس میں دلکشی پائی جائے پس بات کے انداز میں دلکشی ہو اور کردار اعلیٰ اور مضبوط ہو اور کردار لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے والا ہو تو دنیا کی کوئی طاقت (دین حق) کا مقابلہ نہیں کر سکتی دو شرطیں خدا تعالٰی نے لگا دی ہیں اس کے بعد فرمایا ہے جاؤ میدان میں کامیابیاں تمہارے قدم چومیں گی وہ جو تمہاری جان کے دشمن ہیں، یہاں تک یہ آیت فرماتی ہے آگے جا کے وہ جاں نثار دوست بن جائیں گے۔لیکن ایک اور شرط ساتھ یہ لگائی کہ صبر بھی ساتھ رکھنا۔وہ لوگ جو صبر کے ساتھ ان باتوں پر قائم رہیں گے یعنی قول حسن کے ذریعہ۔خوبصورت کلام کے ذریعے لوگوں کو اپنی طرف مائل کرتے رہیں گے اور ان کا کردار ان کے کلام کو جھٹلانے والا نہیں بلکہ تقویت دینے والا ہو گا ان کو یہ خوشخبری ہے کہ اگر وہ میر کے ساتھ استقامت کے ساتھ اس طریق پر کار بند ہوں تو ان کیلئے کامیابیاں ہی کامیابیاں ہیں اور دشمنی کا ذکر ضرور فرمایا کہ اس کے باوجود قول اور اعلیٰ کردار کے باوجود دشمنی ہوا کرتی ہے فرمایا تم اس پر قائم ہو جاؤ دشمنیاں تبدیل کرنا ہمارا کام ہے اور ہم دشمنوں کے دلوں سے رحمت کے چشمے پھوڑ دیں گے یہاں تک کہ وہ لوگ جو تمہارے خون کے پیاسے ہیں تم پر خون نچھاور کرنے میں اپنا فخر سمجھیں گے کتنا عظیم الشان پیغام ہے اور کتنے مختصر الفاظ میں خدا تعالٰی نے اس سارے مضمون کو وہ جو ایک سمندر کی طرح ہے ایک کوزے میں بند کر دیا پس را حسین الی اللہ کیلئے بڑا ضروری ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے کردار کا محاسبہ کریں اور اپنی طرز کلام کا بھی محاسبہ کریں بہت سے مبلغین میں نے ایسے دیکھتے ہیں جو زندگیاں تبلیغ میں صرف کرتے ہیں لیکن ان کی بات کاٹنے والی ہوتی ہے۔وہ جب آگے سے کوئی تختی کی بات سنتے ہیں یا تیزی دیکھتے ہیں تو جواب میں بھی وہ تیزی پیدا کرتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ دشمن کو شکست دینا ہمارا کام ہے حالانکہ دشمن کو شکست دینا ہرگز کام نہیں ہے دشمن کا دل جیتنا کام ہے قاد التهاي بينك وبينها مداوا وكانه ولي حميم ه مقصد بنا دیا خدا تعالی نے تبلیغ کا اور کتنا واضح مقصد ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ پھر تم دشمن کو شکست پر شکست دیتے چلے جاؤ گے۔فرمایا کہ پھر یہ ہو گا اور یہ ہونا چاہئے کہ شدید دشمن بھی تمہارا صحب اور جہاں نثار دوست بن جائے۔جس کو آپ نے دوست بنانا ہو اس کو تیز کلام کے ذریعے دوست نہیں بنایا جا سکتا گھروں میں بچوں میں میں نے دیکھا ہے جب گفتگو چلتی ہے اگر کوئی ایک بچہ دوسرے کو تیزی سے جواب دے تو دوسرا اور تیزی سے جواب دیتا ہے یہاں تک کہ بعض دفعہ لڑائیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ایک دوسرے کو جو ہاتھ میں آئے بارنا شروع کر دیتے ہیں۔تو وہ لوگ جو پہلے ہی آپ کی جان کے دشمن ہیں قرآن کریم فرماتا ہے۔ہیں جان کے دشمن۔ان کے ساتھ آپ تیز کلامی سے کس طرح مقابلہ کریں گے۔ان کے اندر جو ہد رجحانات ہیں ان کو اور بھی آپ آگ لگا دیں گے ان کے اندر جو مخالفتوں کا تیل ہے اس کو تیلی دکھائیں گے۔اس لئے قرآن کریم نے بہت ہی حسین اور بہت ہی کامل کلام فرمایا ہے فرمایا یہ سب کچھ کرو لیکن مقصد یہ پیش نظر رکھنا کہ تم نے دشمنوں کے دل جیتنے ہیں اور قول حسن اس تعریف کے تابع ہے قول حسن کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم غالب آجاؤ بحث میں کیونکہ بحث میں غالب آنے کے نتیجے میں دل ضروری نہیں کہ جیتے جائیں گے بعض دفعہ مخالفتیں بڑھ جایا کرتے ہیں بعض دفعہ دشمن بیٹا محسوس کرتا ہے، اپنے آپ کو ذلیل محسوس کرتا ہے اور رد عمل میں اور زیادہ سختی کرتا ہے فرمایا : تمہاری طرز کلام حسین ہونی چاہئے یعنی دل جیتنے والی ہو اور عمل کے متعلق تو پہلے ہی میں