تحریک پاکستان اور جماعت احمدیہ

by Other Authors

Page 18 of 19

تحریک پاکستان اور جماعت احمدیہ — Page 18

IA کے معاملہ میں کی تھی حقیقت باؤنڈری کمیشن کے کاغذات میں ظاہر و باہر ہے اور جس شخص کو اس مسئلہ سے دلچسپی ہو وہ شوق سے اس ریکارڈ کا معائنہ کر سکتا ہے۔چوہدری ظفر اللہ خاں نے مسلمانوں کی نہایت بے غرضانہ خدمات انجام دیں۔اس کے باوجود بعض جماعتوں نے عدالتی تحقیقات میں ان کا ذکر جس انداز میں کیا ہے وہ قابل شرم ناشکرے پن کا ثبوت ہے، ( رپورٹ عدالتی تحقیقات صفحه ۲۰۹ ) پاکستان کے مشہور و ممتاز صحافی میاں محمد شفیع صاحب مدیر اقدام لاہور احراری عنصر کی پاکستان " دشمن سرگرمیوں اور اس کے خوفناک نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے نہایت محتاط الفاظ میں لکھتے ہیں :۔" مجلس احرار اسلام جس میں شاہ صاحب ایک گرم اور تڑپتے ہوئے دل کی حیثیت رکھتے تھے اجتہادی غلطی کا شکار ہو گئے اور تحریک پاکستان کا ہر اول دستہ بننے کی بجائے سیاسی جمیل بھوسوں میں گرفتار ہو گئے۔اگر اس وقت مسلم لیگ کو احرار اسلام ایسی فعال متحدہ بند اور جاندار جماعت کی تائید حاصل ہوگئی ہوتی تو کم از کم پنجاب کی شہ رگ کے قریب سے تقسیم نہ " ہوتی " ؛ شاہ جی صفحه ۴۹ مؤلفه نذیر مجیدی) قیام پاکستان اور حضرت امام جماعت احمدیہ کا پر شوکت بیان الحمدللہ مسلم لیگ اور جماعت احمدیہ کی متحدہ کوششیں بالآخر جناب الہی میں قبول ہوئیں اور ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان دنیائے اسلام کے اُفق پرستارہ بن کر نمودار ہو گیا مگر جس طرح جماعت احمدیہ نے من حیث الجماعت قیام پاکستان کی جدوجہد میں بہت بڑھ چڑھ کرحصہ لیا تھا اسی طرح قیام پاکستان پر کانگرس او انگریز کی ظالمانہ اور انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بھی سب سے بڑھ کر اسی کو بننا پڑا اور اسے جہاد پاکستان کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی حتی کہ اس کا محبوب مرکز قادیانے جس پر ملک کے اسلام دشمن طبقوں کی مدتوں سے نظر