تحریک پاکستان اور جماعت احمدیہ

by Other Authors

Page 17 of 19

تحریک پاکستان اور جماعت احمدیہ — Page 17

16 نهایت مدتل ، نہایت فاضلانہ اور نہایت معقول بحث کی۔کامیابی بخش ناخدا کے ہاتھ میں ہے مگر جس خوبی اور قابلیت کے ساتھ سرمحمد ظفراللہ خاں صاحب نے مسلمانوں کا کیس پیش کیا اس سے مسلمانوں کو اتنا اطمینان ضرور ہو گیا کہ ان کی طرف سے حق و انصاف کی بات نہایت مناسب اور احسن طریقہ سے ارباب اختیار تک پہنچا دی گئی ہے۔سرظفراللہ خاں صاحب کو کیس کی تیاری کیلئے بہت کم وقت ملا مگر اپنے خلوص اور قابلیت کے باعث انہوں نے اپنا فرض بڑی خوبی کے ساتھ ادا کیا۔ہمیں یقین ہے کہ پنجاب کے سارے مسلمان بلالحاظ عقیدہ اُن کے اس کام کے معترف اور شکر گذار ہوں گے " اخبار” نوائے وقت“ لاہور نے ۲۴ اگست ۱۹۴۸ء کی اشاعت میں حسب ذیل نوٹ بھی لکھا :۔" جب قائد اعظم نے یہ چاہا کہ آپ پنجاب باؤنڈری کمیشن کے سامنے مسلمانوں کے وکیل کی حیثیت سے پیش ہوں تو ظفر اللہ خاں نے فوراً یہ خدمت سر انجام دینے کی حامی بھری۔۔۔۔۔اور اسے ایسی قابلیت سے سر انجام دیا کہ قائد اعظم نے خوش ہو کر آپ کو یو این او میں پاکستانی وفد کا قائد - مقرر کر دیا۔جس طرح آپ نے وقت کی وکالت کا حق ادا کیا تھا اس سے آپ کا نام پاکستان کے قابلِ احترام خادموں میں شامل ہو چکا تھا۔آپ نے ملک و ملت کی شاندار خدمات سرانجام دیں تو قائد اعظم انہیں حکومت پاکستان کے اُس عہدے پر فائز کرنے پر تیار ہوگئے جو باعتبار منصب وزیر اعظم کے بعد سب سے اہم اور وقیع عہدہ شمار ہوتا ہے یہ علاوہ ازیں جسٹس محمد منیر صاحب نے جو ریڈ کلف ایوارڈ میں مسلمانوں کی طرف سے ممتاز رکن اور فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء کی تحقیقاتی عدالت کے صدر تھے اپنی عدالتی رپورٹ میں لکھا :۔" عدالت لہذا کا صدر جو اس ( باؤنڈری کمیشن کا مبر تھا اس بہادرانہ جد وجہد پرتش کرو امتنان کا اظہار کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے جو چو ہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے گورداسپور