تحریک احمدیت اور اس کے نقاد

by Other Authors

Page 88 of 104

تحریک احمدیت اور اس کے نقاد — Page 88

^^ خواجہ حسن نظامی صاحب بمش العلماء مولوی ممتاز علی صاحب مولوی سراج اللون صاحب (ایڈیٹر زمیندار سید ریا من احمد صاحب ریا فن خیر آبادی - سر عبد القادر صاحب ، علامہ نیاز فتحپوری، ڈاکٹر سیف الدین کچکو، مولانا عبدالحلیم شرر لکھنوی، شیخ محمدا کردم صاحب، منشی محمد دین فوق مواخ کشمیر، جناب عبد الکریم صاحب بر هم مدیر مشرق منشی محبوب عالم صاحب مدیر پیدا اخبارہ اور دوسرے مشاہیر نے بھی تحریک احمدیت کی تبلیغی و علمی خدمات پر عمدہ آراء کا اظہار کیا ہے۔جن کا ذکر جماعتی لٹریچر میں آچکا ؟ غیروں کا انداز فکر تحریک احمدیت کی ان زرین اسلامی خدمات کے مقابل اس پر تنقید کرنے والے عمار فقہاء کا انداز فکر و عمل کیا ہے ؟ اس کی نشان دہی جناب مظہر صدیقی کے ان الفاظ سے ہوتی ہے کہ تنقیب و تعریفین کا حق اسی جماعت کو پہنچتا ہے جو خود کوئی ٹھوکوں کام کر رہی ہو۔یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی جماعت محض تنقیب را نہ زینہ چینی کیا کرے۔اور خود ہاتھ پر ہاتھ دھرے بھٹی رہے لیکن علماء کی جماعت نے اپنا منصب بس یہ سمجھ رکھا ہے۔کہ خود کچھ کریں یا نہ کریں۔لیکن جو لوگ اسلام کی خدمات کا بار اپنے ذمہ ہیں۔اور اس کی خدمات کو اپنا دین و ایمان تصور کریں۔ان کی غلطیوں اور فروگذاشتوں کو اچھالا کریں۔اور موقعہ ملے تو انہیں کا فر ملحد اور بے دین مشہور کریں پائے لیے رسالہ الجامعہ محمدی شریف ص ۶ ۶۹ موتمر نمبر اپریل ۹۷