تحریک احمدیت اور اس کے نقاد — Page 60
۶۰ یہ اس مقدس گروہ کی راست گوئی کے چند نمونے ہیں جسے منبر و محراب سے وابستہ ہونے کی وجہ سے دنیا بھر کی اصلاح اور امت کی روحانی قیادت و پیشوائی کا ادعا ہے۔میرے خیال میں غلط بیانی کے ایسے شاہکار ازمنہ قدیم وجدید کے کسی بڑے سے بڑے نقاد کے یہاں بھی نہیں مل سکتے۔پھر سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ یہ سب کچھ اسلام کے دفاع اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کیا جارہا ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ يُجِعُوْنَ ہمارے نقادوں کی جو بھی خصوصیت یہ ہے کہ وہ نبی" چوتھی خصوصیت کے تصور کے ساتھ ہی نئی شریعیت کی آمد کو بھی وابستہ کر لیتے ہیں۔حالانکہ صرف گنتی کے چند انبیاء نئی شریعت لے کر آئے ہیں۔بنی تو ایک لاکھ چوبیس ہزار مبعوث ہوئے۔مگر اجمہور مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق کتاب میں صرف چارہ نازل ہوئیں۔اس نقطہ نگاہ کو نظر اندازہ کرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ ظلی نبوت کا نظریہ تکمیل دین کے منافی قرار دیتے ہیں۔حالانکہ اس میں کسی کو اختلاف نہیں کہ قرآنی شریعیت کا قانون مکمل ہے۔اب اس میں نہ کسی کمی کی گنجائش ہے نہ اضافہ کی۔اصل مسئلہ یہ درپیش ہے کہ اس مکمل قانون کی ایک ایک دفعہ پر بہتر ہی نہیں ہزاروں و کلار آپس میں اسمجھے ہوئے ہیں۔اب اس خطرناک کشمکش کے ختم ہونے کی یہ تو صورت پر کیف مکن نہیں کہ ہائی کورٹ