تحریک احمدیت اور اس کے نقاد — Page 61
۶۱ یا سپریم کورٹ کے دروازے ہمیشہ کے لئے مقفل کر دیئے جائیں۔اور وکلاء کی کوئی ایسوسی ایشن اپنی کثرت رائے سے شاہی فرمان اور اس کے دستور کی تشریح و توضیح کرے۔بلکہ صحیح طریق صرف اور صرف یہ ہے کہ خدا تعالئے جو اس قانون کا نافذ کرنے والا بادشاہ ہے۔اپنے قانون کی توضیح کے لئے اپنی طرف سے ایک جج مقرر کرے۔یہی جج حدیث کی اصطلاح میں امام المهدی حکم عدل اور کیسے بن مریم کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔چنانچه مسند احمد بن حنبل کی مشہور حدیث ہے۔يُوشِكُ مَنْ عَاشَ مِنْكُم ان يلقى عيسى ابن مریم اما ما مهديا حكما عدلا ء له یعنی قریب ہے کہ جو تم میں سے زندہ ہو وہ پیسے بن مریم سے اس کے امام اور مہدی اور حکم و عدل ہونے کی حالت میں ملاقات کرے۔ہمارے نقادوں کی پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ وہ پانچویں خصوصیت اپنے ذوق تنقید کی تسکین کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عمو گا ایسی پیشگوئیاں انتخاب کر لیتے ہیں جو انداری اور مشروط تھیں۔حالانکہ اسلامی لٹریچر سے ثابت ہے کہ وعید کی خبریں رخواہ ان کو تقدیر مبرم کا نام بھی دیا جائے) صدقہ دعا تو یہ بلکہ معمولی که مستند احمدین جنیول جلد ۲ صلاح