تحریک احمدیت اور اس کے نقاد — Page 29
۔۔۲۹ یہ ترسیمی نقادوں کے چند اقتباسات میں ان کے علاوہ دوسرے اہلِ مذہب مثلاً سناتن دھرمیوں ، سکھوں ، آریہ سماجیوں اور پر سمجھو سماجیوں نے بھی تنقیدی نگاہ سے احمدیت کا جائزہ لیا ہے۔مثلاً ایک غالی اور متعصب آریہ جماعت احمدیہ کا مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ ا بلامبالغہ احمد یہ تحریک ایک خوفناک آتش فشاں پہاڑ ہے جو بظا ہر اتنا خوفناک معلوم نہیں ہوتا۔لیکن اس کے اندر ایک تباہ کن اور سیال آگ کھولی رہی ہے جس سے بچنے کی کوشش نہ کی گئی تو کسی وقت موقع پا کہ ہمیں بالکل جھلس دے گی یا اے شری بریم دست تحریک احمدیت کی نسبت شری برہم دست کی رائے ہے احمدیہ جماعت مسلمانوں میں ایک ترقی پسند جماعت ہے۔جملہ مذاہب کے ساتھ رواداری اس کی بنیادی تعلیم میں شامل ہے۔۔۔۔۔۔چالیس سال بیشتر یعنی اس وقت جبکہ مہاتما گاندھی ابھی ہندوستان کے افق سیاست پر نمود 1 نہ ہوئے تھے کہ حضرت مرزا غلام احمد (علیہ السلام نے اہ میں دعوی مسیحیت فرما کر اپنی تجاویز رسالہ پیغام صلح کی شکل میں ظاہر فرمائیں جن پر عمل کرنے سے ملک کی مختلف قدروں له اختبار تیج دہلی ۲۵ جولائی ۱۹۲۶، بحوالہ تاثرات قادیان ص۲۲