تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 664 of 736

تحدیث نعمت — Page 664

THE PUNJABI کی متقاضی تھی۔کیال سے میرا پروگرام خرطوم جانی کا تھا اس سفر کا آسانترین طریق نیروی کے سے ان کا تھا۔اس وجہ سے مجھے ایک ہی ارشام نیروی میں گزارنے کا موقع مل گیا۔کمشنر ا ن ہے یہ سا وقت بھی مختلف تقریبات کیلئے مخصوص کر دیا ہوا نقاب پر ت مسجد محمدیہ علی احباب جماعت کی صحبت اور نمازوں میں گذری۔مغر کے بعد لم لیگ کی طرفسے کھانے کی دعوت تھی۔رات کو پنجابی ادبی انجمن کے جلسے میں تقریر تھی۔نصف شب کو خرطوم روانگی تھی۔بیرونی کی پنجابی ادبی انجن میں پنجابی میں تری این ای وی انجمن اپنے انگریزی نام TERARY SOCIETY کے مطابق با اما و یا بیوی یا ان کاریابی ادبی انجمن اسلک ی مورد انگریزی کی ہیروں میں کھڑی ہوئی ہوگی۔لیکن یہ میرے لئے اپناھی کہ نویں میں اکثر روی ایے بھی انگریزی الفاظ میں تھے۔صرف میں نے ٹھیٹ پنجابی میں خطاب کیا دو تین گھنٹے بہت پر لطف صحبت رہی۔نومر لاء میں پھر مجھے دو ن نیز دی ٹھہرنے کا اتفاق ہوا۔اس موقعہ پر اس سائی کے سیکر یری سردار از نان سنگی ماست محمداحمدیہ میں تشریف لائے ا ا ا ا ا ا ا ک کی ان میں یک بنای استانی کی اور پڑھ کر سنایا ان سب حاضرین بہت اثر ہوئے اور یں تو آبدیدہ ہوگیا۔فجزاه الا من الجزاء سلمان تو یز دبی پہنتے کی کاریں رکھ لیا ہوا تھا بنایا اس سے فراغت ہے یار کی راہ لی در عین وقت پر پہنچ گئے۔دوری ا م م ج سے چھ سے فضل اللہ یخرت منظوم پنچ گیا۔سوڈان میں اس سے پہلے خرطوم آچکا تھا لیکن یہ مازن ر او یعنی میں کل پہلے کی بات تھی۔خرطوم میں دو دن بہت مصروفیت میں گذرے۔اگر یہ ابھی سنور کا آخری تھالیکن دوپہر کے وقت گرمی کی شدت کا احساس ہوتا تھا۔صدر ریاست کی خدمت میں باریابی ہوئی را تا مدین اور معنی کیا تا استقبالی دعوت میں ملاقات کا موقعہ ہوا۔سوڈان کے تعلقات پاکستان کے ساتھ ہمیشہ بہت دوستانہ رہے ہیں۔سوڈان کے ارباب حل و قد میں ضیاء الدین او کے بنیا ممنون ہیں کرانہوں نے ورنر جنرل کی مشاورتی کونسل کے چیر مین کی حیثیت سے سوڈان کی بہت مخلصانہ خدمات سرانجام دیں۔قاہرہ میں صدر مملکت کرنل جمال خطوم سے میں قاہرہ آیا۔صدر ملت کرنل جمال عبد الناصر صاحب السید علی بدانا مرد سے نارارات عبد الناصر و دیگر قائدین سے مذاکرات | صابری صاحب ار وزیر خارجہ اسی محمود نوری صاری سے ملاقات اور تبادلہ مناسب خیالات ہوا۔صدر مملکت سب بی نهایت تواضع سے پیش آئے۔ملاقات کے آخر میں رخصت کرنے کیلئے باہر کار تک تشریف آئے اور عرب دستور کے موافق پار کے ساتھ رخصت کیا۔السید علی صابری صاحب نہایت سنجیدہ مزاج سیاستدان ہیں۔حالات حاضرہ پر تبادلہ خیالات ہوتا رہا۔اسی محمود نوری صاحب کیسا تھ لہو سے دوستانہ تعلقات تھے۔جب وہ اقوام متحدہ میں مصر کے منتقل نمائندے تھے۔بالکل بے تکلفی سے بات چیت ہوتی رہی۔ٹریپولی قاہرہ سے میں ٹریچولی گیا۔لیبیا، تونس ، الجیر یا اور مراکش کی آزادی کی کشمکش میں پاکستان نے نمایاں