تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 663 of 736

تحدیث نعمت — Page 663

انہیں سرحد کے قریب کے علاقوں میں بسانے کا انتظام کیا اس منصوبے کے سلسلے میں حکومت کو اقوام متحدہ کی ایجنسیوں خصوصا عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحد کے پاہانہ نیوں کے محلہ کے ہائی کمشن سے مد در تعاون کی ضرورت محسوس ہوئی۔حکومت کی خواہش پر میں نے سرحدی علاقے میں جاکرم منویہ کے بعض شعبوں کو دیکھے بخوشی منظورکر لیا۔اس میں ا ر الدین محمد اب بھی سر کار شریف کے پتے ایک اس نے اک یکی یکی بوگیاں مین سڑکوں پرسفر کیا مجھے الفاق واد سب پتہ اور بات ابھی حالت میں تھیں۔مس کرمی مارا قیام مساکر ان میں ہوا جو ایک خوشتان نہایت صاف اور بہت آرام دہ جئے قیامت اب بھی ڈاکٹراحمد دین صاحب سارہ میں دانش ھتے ہیں انکا مکان کے قریب ایک مرقع مقام پردات ہے جہاں اردگرایی و نظر دورتک نظر ہے مغرب کی نماز نے کے ان کے میں نے من میں ا ا ا ا اللہ تعالی کے فضل سے اس میں مادام تعمیر و کی ہے۔الحمدللہ اسے ون ناشتے کے بعدہم سرحد کیطرف روانہ ہوئے دن کا اکثر حصہ پناہرنیوں کے باد کرنے کے صوبے کے مختلف شعبوں کو دیکھنے میں صرف وا۔یورین اور فارین افسروں اور کارکنوں کی متعدی ، ہمدردی اوراخلاص سے یا بہتا ہوا اس پر اس کا والی ہوئی۔یہاں یرند پاکستان مراد آباد کی طرف سے استقبالی دعوت کا نظام تھا ان سب صاحب سے مکروہت خوشی ہوئی شام کو کیالہ اسی ہوئی جمعہ کے دن نماز اور دوپہرکے کھانے کیلے میں جنج گیا۔یہ قصہ کیا ل سے ۴ - ۵ میل کے فاصلے پر جنب شرق تحمل وکٹوریا یانی کے کنارے پر واقع ہے یہیں سے دریائے نیل جھیل سے نکل کر شال کی جانب بہت ہے جام تمام ہی کو ان کا مرکز اور صدر مقام بھی یہیں ہے مسجد محمدیہ اورمشن ہاؤس جھیل کے بالکل قرب واقعہ ہی اور دریائی کا حرج بھی وہاں سے دور نہیں۔نماز کے بعد بلدیہ کی طرف سے استقبالی دعوت کا انتظام تھا۔اس تقریب میں صدر بلدیہ اور معززین شہرسے طلاقات ہوئی۔دریائے نیل کے مخرج پر کھڑے جو ان خیالات کا محروم رہاکہ اس مقام کی تلاش میں سنکی دی جانیں قربان ہوئیں اور شمال اور مشرق اور مغر کی طرف سے جنگلوں اور دلدلو و عبور کرتے ہوئے بڑے بڑے تالے مہینوں بھوک پیاس اور طرح طرح کی میتوں کا شکار ہوئے اور اب بڑے آرام اور اس کاش میں ر کرتے ہوئے امین نے لے کے اور پینے کے دیکھنے کے اندر ان اپنے جاتے لیاری کے حج کے منظر اپنے اپنے ذوق کے مطابی خط اٹھاتے ہیں۔کمالہ کی مسجد محمدیہ کے افتاح کی سعادت کا تقابل تاریک با یک کالای لای پیر بھی بنیات تھی الت میں ے جانے قیام پر نور کے محمداحمد میں حار وادی محمد بی شر کی آباد کے اندر ایک نماز رفع مقام پر دال ہے مارت پاکیزہ ان سحری ، وادار اور خوشی ہے۔اس مسجد کی تعمر یوگنڈا کی جاعت احمدیہ نے اپنی حثیت سے بڑھ کر تصریں لیکن خراجات ہی کرنے اور دیگر متعلق مالی میں سے بڑھ کر اور نمایاں حصہ ڈاکٹرلعل بن احمد اس نے لیا۔جزاه الله فی الاین خبر محمد کی مکمل میرے کیا کہ جانکے تھوڑا وہ پہلے ہوئی تھی مسجد کی افتاح کی سعادت اللہ تعالی کے کمال فضل اور دورہ نوازی سے ے مال وی و ولد الحد اراک میں بھی مجھے جمعہ کان کاری کرنے کا اتفاق ہوا۔درمیانی عمر میں حج کے ملحق نے کمرے تیار کر کے ایک کو بھی شروع کر دیا گیا تھا جو لفل اللہ کامیابی سے چل رہا تھا۔طلباء کی تعداد کارت کی توسیع