تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 665 of 736

تحدیث نعمت — Page 665

۶۶۵ ئے حویلیا تھا اوران مالک میں پاکسان کے متعلق ہرطبقے میں نہات مخلصانہ جذبات ہیں جن کا اظہار میرے قیام کے دوران میں سرمقام واریا رام اللہ خیر۔ان چاروں ملک میں حالات اورتاریخ اسلام کے آثامر اور ان سے متعلق مقامات میرے لئے بڑی لچسپی کا باعث ہوئے۔ڈاکٹر اسید فاضل جمالی ٹر یونی میں میرے نہایت عزیز دوست ڈاکٹر سید فایل مالی سابق وزیر خاری عمران کے ارادے سے بھی ملاقات ہوئی و اقوام متحدہ کے کس شہر کے متعلق میں کوئی خدمت سرانجام دے رہے تھے ملتے ہی مرنے ریات کا آپ کا دل کہاں ہیں؟ کہا تونس مںمیں آپ کو ہاں لیں گے۔ان سے بالتفصیل ان کے والد اس کے متعلق حالات معلوم کئے بنار کے انقلاب کے وقت اسید فاضل جمال عراق کے وزیر خارجہ تھے انقلاب میں وہ بھی زیر عتاب آئے محسوس ہو امات ادا کئے گئے فوجی عدال میں متقدم ملا سووریای ولی گوگولی کات زیبا یے گئے ہیں۔اس تمام عرصے میںمیں ایک مخلصی کیلئے عامیانہ دا کار را با رایا اور اس کے بعد ہی یہ ویلی کو رہا کردیے گئے ہیں۔ان کے صاحبزادے سے معلوم ہو کہ رہائی کے توڑ عرصہ د صحت کی بلی کی خاطر کی مدت کیسے سوئٹرزلینڈ تشریف لائے تھے ی میں تھے کہ جامع تونس کی طر سے فلسفہ اسلام ی ی ی ی ی ی ی وای جوانوں نے منظور کرلی جو کوائف انسے معلوم ہوئے وہ میرے اطمینان کا باعث ہوئے اور ان کے نتیجے میں مرا تونس پہنچنے کا شوق اور بھی تیز ہوگیا۔تونس | تونس پہنچنے تک رمضان شریف کا مہنہ شروع اا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ت تونس الازار اور ماش نی یاری ور ان کا ان کا رنگ نہیں کیتی عموما افطاری در امکان دارد یا استاد بیک وقت بال ختم ہو جاتے ہیںاور مساعد نمانہ یوں سے بھر جاتی ہیں۔فالحمد للہ۔السید فاضل جمالی سے ملاقات تونس میں جس مہما خانے میں میرا قیام تھاوہ فرانسیسی اقتدار کے زمانے میں ایک افطاری می نے عرض کیا اس وقت تو میرا حاضر ہونا ہی مناسب آپ یہاں کے داروغ کو ٹیلیوں پر گھر کا یہ بتادیں وہ شور کو سمجھادی کے ورمیں جلدسے جلد آپ کی مدت میں حاضر ہو جاؤں گا۔ہماری ملاقات با پر ایک تھی میں نے شروع ہی میں دنیا کی ایک کمرے نام چنتے رہے تھے یا نیچے ہے اور میرے تسکین ام جو ہو تے یا را ایرادی کی نانی تینوں ہوں میرا زندہ رہا لہ تعالی کے خاص اس سے یہ ہوا کی بارات و اطلاع ملی کہ در ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا م م م م ا ا ا ا ا یگان میں میر نام بھی شام ہے لیکن جب دوسری صبح تقل جانیوالوں کے نام پڑھے جاے تو میں یا نہ ہوتا۔راہی سے قبل مجھے جنرل قسم کے رویے پیش کی گی انہوں نے بتایا جب بھی بہار نام فہرست میں آتا تھامی خود اپنے ہاتھ سے اسے کاٹ دیا تھا۔میں نے ان کا شکر یہ ادا یا۔تھوڑا عرصہ بعدوہ بیچارے نو بھی اس قسم کی مت کا شکار ہوگئے جسے انہوںنے شروع کیاتھا۔میں نے کہایہ سال عرصہ آپکے ین کے لیے بڑی پرانی یا یا اللہ العالی نے رم رایا اور جان بخشی ہوئی۔جب فوجی عدالت میں اپنے خلافت