تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 655 of 736

تحدیث نعمت — Page 655

400 ی اختیار رکھیں اسے میں نے طبی ہدایت کی خلاف وری مناسب جهی به مانای ماری آخری ملاق امین ثابت ہوئی اناللہ وانا الیہ راجعون۔مرحوم سے میری پہلی ملاقات آئورا می ہوئی تھی جب وہ وہاں پاکستان کے ہائی کمشنر تھے۔اس زمانے میں بھی وہ دو تین بار اسمبلی کے اجلاس کے دوران میں نیو یارک تشریف لائے تھے۔آٹو سے بوب سفر مو کر واشنگٹن گئے تو ماہ کی ملاقات کے زیادہ مواقع میسر آنے لگے۔وہ نہایت شریف طبع اور بہت متواضع تھے۔پہلی ملاقات سے ہی مانی تعلقات دوستانہ ہوگے اور مین کی سیم نوازشوں کی وجہ سے میدان کا منون بار با اله الا العالم نصرت فرمائے اور کمال فضل اور رحمت کا سلوک فرمائے آمین۔مالی اواپسی کے سفر میں کراچی سے دن کے رستےپہلے میایی یا سوالی کا دارالحکومت ہے ان دونوں ریان نظرات سانی یاری یاری استان تمام مرد کے مایہ اور ایم ایل قرشی صاحب حکومت کے اقتصادی مشیر تھے ان دونوں اندروں کی خدمات حکومت پاکستان نے اقوام متحد کی درخواست پر عار نیادی ہوئی تھیں اور حکومت سومالیہ کے میر ھے۔دونوں اپنے اخلاص، محنت اور ختار مالیہ کے حقوق اور مادی حفاظت کی وجہ سے مالیہ کاحکومت اور عوام میں نہایت قدر ومنزلت رکھتے تھے جس سے مجھے بہت وشی اور اطمینان ہوا۔مگی میں قیام کے دوران میںمیں نے سرمائی پارلیمنٹ کوخطا کیا۔متعدداواروں کو دیکھا۔وزیراعظم زیر خارجہ اور وہاں کے دیگر قائدین سے ملاقاتیں اور مذاکرے ہوئے۔صدر ملک نے شام کے کھانے کی تقریب میں سومالیہ کا سب سے ان والا ملارایا ایک وقت میں سوالیہ کا اعلا ر بریک کے مویشیوں کا چارہ پیدا کرتا تھ اور سا لم میں وسیع چراگاہیں تھیں مویشیوں کی کثرت کی وجہ سے دودھ با فراط میسر آتا تھا بیان کہ عمارتوں کی تعمرمیں ہونا سکھانے کیلئے پانی کی جائے دود عود استعمال ہوتا تھا مجھے بتایاگیا کہ دودھ سے کھایا ہوا ہونا عات کی مضبوطی اور پائیداری کا موجب ہوتا ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔وکی شد با نتیش کے ایسے مجھے BRONCHITIS کی تکلیف ہوگئی۔ایک معمر اطالوی ڈاکٹر مجھے دیکھنے آئے۔وہ اپنے۔فن میں ماہر ثابت ہوئے۔انہوں نے جو علاج تجویز کیا اس سے مجھے عبد افاقہ شروع ہوگیا۔فالحمدللہ۔ایک احتیاط جو انہوں نے انی یہ تھی کہ یا سرگرم میامی جان بند کر دیا جائے اور ادنی گرم لباس پہنا جائے۔اس ہدایت کا دوسراحصہ مجھے کچھ عجیب معلوم ہوا۔ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ لو سے حفاظت کیلئے یہ اختیاط ضروری ہے۔مگدی سے نیروبی روانہ ہونے تک ہماری کی تکلیف توبہت مرتک رفع ہوگئی تھی البتنا احتیاط کی ضرورت باقی تھی۔کینیا نیروبی میںپاکستانی کمتر سردار عبدالغفور صاحب تھے وسردار عبدالرب نشتر صاحب مرحوم کے برادر اصغر ہیں ں ہوں نے مجھے نے ہاں ہاں بٹھایا اور انہوں نے اور انکی کی مارنے کی دقیق مہمان نوازی اور تواضع کا اٹھانے رکھا۔مجھے ان کے ہاں ہرلحاظ سے نہایت آرام میر رہا۔فجزاهم الله خيراً موگادیشو میں سخت نتیش کا سامنا تھا۔یزد با مرتفع ؟ لی کوس علاقے میں واقعہ ہے میرے پینے کی وہاں بارش بھی ہوئی اور جو می خاصی خنکی ہوگی اس وجہ سے 15 RONCHIT کی بروشات اتی تھی اس نے انفلونیزا کی صورت اختیار کر لی۔ڈاکٹرسید محمداسلم صاحب نے بہت شفقت اور تو یہ اعلان کیا اور اللہ تعال