تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 654 of 736

تحدیث نعمت — Page 654

۲۵۴ وام متحدہ اور سترویں اجلاس پر ایک مخمر تیرہ کیا۔جس میں باری باری ایک یک موضوع پراظہار خیال کیا آخر می فرمایاب سے بڑھ کر یہاں مجھے ایک ایسی ہی کو دیکھنے اور جانے کا موقعہ ملا اور اس تمہید کے ساتھ میرے متعلق از راہ شفقت ایسے تعریفی کلمات فرمائے جوان کی شرافت طبع اور کریم النفس کے شاہد توضرور تھے لیکن میری جو تصویر انہوں نے اپنے الفظ میں کھینچی اس مں میرے لئے اپنے خدوخال کو شاخت کرنا ممکن تھا۔ابھی ترین کی رات میں تین نام باقی تھے کہ روس کے سفر نورین نے بھی اپنانام بھیج دیا۔سارے اشتراکی ملک کیطرف سے بلغاریہ کے مندوب مناسب الفاظ میں اظہار خیال کر چکے تھے لیکن سفر زدرین شائد اس پر مطمئن نہ ہوئے تھے اور انہوں نے روس اور اشترا کی مالک کی طرف سے دوبارہ صدر کی خدمات اور بالخصوص اس کی غیر جانبداری کوسراہا۔آخر یہ نیست ختم ہوئی میرا بارہ اپنے الفاظ ومندو مین اور عملے کے تعاون کے شکریے تک محدود رکھنے کا تھالیکن ایوان کا ماحول کچھ زائد کا انتقامی تنها می نوشمال در رنگ حال ملک کے در میان اقتصادی تعاد کی طرف توجہ دلاکراس ٹی وی میلیج کو پاٹنے کی شدید ضرورت پرند یا میری ادا نہ ہجوم جذبات کی وجہ سے نرم اور دی وی تھی شائد اس وجہ سے در بھی توجہ سے سنی گئی۔ایوان میں کامل خاموشی تھی لیکن جب میں نے آخری الفاظ میں اپنے رفقاء کو دا نے نہ یکن کیا والا اسے محسوس ہوا جیسےکسی طوفانی سمندر کانٹوٹ گیاہے۔اور دوبین کا ایک ملکی صدارت کے پلیٹ فارم پر جمع ہوگیا۔بعض افریقی اور ایشیائی مندوبین نے مجھے معانقے سے نوازا اور بہت سوں نے شکریہ اور افرین ے الفاظ کہے میں نے کچھ کہنے کے قابل نہ تھالین دل بار بار پکار انها سحبت لک روحی ربانی ، سمارت لک رومی د بنائی۔حکومت پاکستان کی طرف سے شمالی اور مشرقی | دوسری میں دفتر پہنچنے پر وزیر خارجہ کا نارملا کہ اور مشورے افریقہ کے ممالک کے سفر کی ہدایت کے لئے راولپنڈی آرمیں نے تعمیل ارشادمیں رخت سفر باندھا رای ما مردانگی کی تیاری کرلی۔راولپنڈی ما ر ہنے پر وزیرخارجہ نے راما این امور پر مشورے کی ضرورت ہے وہ تو وزارت سے کرلو لیکن میں غرض نہیں یہاں جانے سے یہ ھی کہ یہاں سے ایسے کام میں مشرق اور شمالی افریقہ کے مال سے میری ہوتے ہوئے جاؤ ان سب کے ساتھ بلاشبہ ہمارے تعلقات خوشگوار اور دوستانہ ہیں۔لیکن تمہارے جانے سے اور بھی مضبوط ہو جائیں گے۔کیونکہ انمیں سے نئے آزاد ہو والے ملک کے ارباب حکمت ذاتی طور پر ہمارے نہایت معنون ہیں اور تمہارے جانے سے انہیں خوشی ہو گی پر محمد علی صاحب بوگرا کی علالت اور وفات میں راولپنڈی پہنے سے کودن قبل وزیر خارجہ صاحب کو دل کی کچھ تکلیف ہوگئی تھی علی میران نے کام سے قطعی رد کیا ہوا تھا۔وہ خودتو لمبی ملاقاتوں کے خواہشمند تھے لیکن می نے ان کی صحت اور طبی ہدایات کے پیش نظرخودی یہ احتیاط کیکہ ہر ملاقات میں پندرہ منٹ سے زیادہ ان کی خدمت میں حاضر نہ رہتا انہوں نے یقین بھی دلایا کہ اب وہ فضل اللہ پوری صحت میں ہیں۔لیکن چونکہ ڈاکٹروں کی بات تھی کہ چلنے پھرنے اور بات چیت