تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 656 of 736

تحدیث نعمت — Page 656

۶۵۶ کے فضل سے یہ تکلی کے فضل سے یہ تکلیف بھی رفع ہوگئی میرے نیروبی پہنچنے کے دن سوپر کو سردار عبد الغیر صاحب کی طرف سے استقبالی تقریب کا انتظام تھاجس میں مٹر سیکم میکڈانلڈ بھی جنہیں گورزی کا چارج لئے ابھی دو تین دن ہی ہوئے تھے تشریف لائے۔دومٹر ریمیرے میکڈانلڈ کے صاحبزادے ہیں تو گول میز کانفرنس کے زمانے میں وزیر اعظم برطانیہ تھے وہ کچھ عرصہ برطانیہ کی وزارت یں بھی رہے تھے۔گول میز کانفرنس کے سلسے میں میرےان کے ساتھ دوستانہ مراسم گئے تھے۔اس کے بعد جب وہ جنوب مغربی ایشیا میںبرطانوی کمشنر تھے تو دو ایک باران سےملاقات کا اتفاق ہوا تھا۔نیروی میں ملے ہی فرمایا فرصت ہو تو کل کسی وقت گورنمنٹ ہاؤس آؤ تم سے بہت کی باتیں کرنی ہیں۔میں یا تو گفتگو زیادہ ترینیا کی آزادی کے آخری مراحل کے متعلق ہی میں ے کہ اگر آپ یا تجربہ کار اور ہمدرد سیاستدان بھی اس کمی کو بلدیہ الاسکات پر یہ کسی سے بی سی نہیں سکے گی۔فرمایا برطانیہ کیطرف سے تو کوئی مشکل نہیں ساری مشکلات درونی اور شی یا ابالی میں میرے پیش رو مفت میں وزارت ک ایک اجلاس ان ملک کے تصفیہ کیلئے وقت کیا کرتے تھے میں نےلے کی ہے کہ ہر تنے ہی کم سے کم مدارت کے تین اعلام ان مشکلات کے حل کیلئے ہوا کریں۔اور اس پر سب فریقین کو رضامد کر لیاہے کہ جو مال آپس کی گفتگومیں باہمی رضامندی سے طے نہ ہوسکیں وہ سیکریٹری آن اسٹیٹ نو آبادیات کی دم میں انکے آنے پر پیش کر دیے جائیں اور وہ انہین کے ساتھ مشور کے سب سے پر نہیں اے سلیم کرلیا ہے اور آئی میں سے ملان تجویز کر دیجئے میں سیر کرتا ہوں اس طورسے اب تمام مال اول و بالاتفاق حل ہو جائیں گےاور اگر کوئی باقی رہ گیا تو روزہ طریق سے طے ہوجائے گا چنانچہ ان کی مخلصان علی ے تے میں کیا کی آزادی کا بھی جلد فیصلہ ہو گیا۔مسٹر جو کینیا اور سٹر ام سیویا اور نیروبی کے قیام کےدوران میں وزیر اعظم ازاین امر مونٹی کی خدمت می دیگر قائدین کینا سے ملاقاتیں بھی حاضر ہوا۔دوران گفتگو میں فرمایا جماعت احمدیہ بیاں بہت اچھا کام ی ہے۔جب میں قید تھان کے نمائندگان مجھے جیل میں لاکرتے تھے مجھے نوں نے قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ بھی دیاتھا۔جسے مں نے چار بار تو جیل میں پڑھا اور اب پانچویں بار پڑھ رہا ہوں جب مجھے کسی مسلے پر اصولی ہدایت کی تلاش ہوتی ہے تو " چنانچہ نیویارک واپس پہنچنے پرمیں نے ایک سنہ انکی خدمت میں ارسال کر دیا کنیا کے دیگر وزراء اور قائدین کے ساتھ بھی لنے کا اتفاق ہوا۔میرے اندازے کے مطابق ان سب میں مسٹر نام ہو یا قابلیت کے لحاظ سے افضل تھے۔واللہ اعلم بالصواب۔ا عبالا فراری برادراکبرسرداربار بنا کر احرام سے کیاکرتے تھے کہتے تے بےمیں پنجاب کاگورنر اور نالج کی تکلیف میںمبتلا ہوگیا توظف الدخان متواترہ مہینوں میری بھائی صحت کیلئے دعا کرتا رہا۔میں نے کہایہ درست ہے ہمارے ہاں قابل خادمان قوم کی افراط نہیں اور سہ دار صاحب مرحوم کا وجود اس لحاظ سے بہت قیمتی تھا۔با وجود اختلاف عقائد کے ہمارے باہمی تعلقات نہایت دوستانہ اور خوشگوار تھے۔میرے دل میں ان کا بہت احترام تھا۔اورمیں انہیں بہت قدر