تحدیث نعمت — Page 600
کے تودے تھے۔کراچی حادثے کی اطلاع پہنچی لیکن وہاں سے ڈاکٹر مریم بی کا سامان اور مناسب کمک آتے گھنٹوں لگے سڑک کے رستے ہو لوگ کراچی آئے ان کی موٹروں کے لئے سڑکی سے سٹیشن اور ریل کی پڑی تک پہنچنا مشکل ثابت ہوا۔بہت سے مسافروں نے اپنے اعزہ واقرباء کو بذریعہ تا اطلاع دینے کی کوشش کی۔میں نظام میں تھا کہ محکمہ ہیلی کی طرف سے جو انتظام مسافروں کو کراچی پہنچانے کا کیا جائے گا اسی کے مطابق میں بھی کراچی پنج ود جھاؤں گا۔لیکن دوسر کے تھوڑی دیر بعد سید شجاعت علی حسنی صاحب مرحوم ما شیخ اعجاز احمد صاحب اور چودھری بشیر احمد صاحب موٹر میں پہنچ گئے۔جزاھم اللہ میںان کے ساتھ کراچی آگیا الحمدللہ۔اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں کہ یہ حادثہ حضرت خلیفہ ایسیح الثانی کے خواب کے مطابق پیش آیا اوراللہ تعالی نے محض اپنے فضل و رحم اور دورہ نوازی سے میری جاں بخشی فرمائی۔اور مجھے محفوظ رکھا۔خواب میں بشیک بوائی بہانہ کے کسی جزیرے پر کرنے کا ذکر تھا لیکن ہر خواب کسی مارک تعبیر کا محتاج ہوتا ہے۔خواب کے دیگر سب قرائن صفائی سے پورے ہوئے سواری گوری تھی لیکن خطر آگ ہی کی صورت میں پیدا ہوا جس مقام پہ یہ امید تنوع میں آیا وہاں دریل کا رخ مشرق سے مغرب کی طرف تھا اور جب حادثے کی تحقیقات شروع ہوکر ڈرائیور کا بیان اخبار شائع ہوا تو معلوم ہوا کہ اس کا نام غلام محمد تھا اور وہ بالکل معجزانہ طور پر سلامت رہا۔اس کا بیان تھا کہ ڈاک گھاڑی اپنی رفتار پر کی جا رہی تھی کہ ان پر اسے ایک موڑ آیا جب انجنمور کے گرد گھوا تو یکا یک سانے نیم اندھیرے میں مجھے ٹھیری ارسی پر ایک طومار گرا ہوا دکھائی دیامی نے دہشت میں فوراً بریک لگا دیے لیکن پھر بھی ان کی مگر اس طومار سے ہوئی۔اور اس تصادم کے نتیجے میں انجن بڑی چھوڑ کر لڑھکتا ہوا ڈھلوان سے نیچے جاگرا یجب میرے اوسان ٹھکانے ہوئے ومیں نے دیکھاکہ میرا ارمین مرابڑا ہے میں رینگتا ہوا انجن سے باہر نکلاتومی نے خود کو صبح سلامت پا یا مگر ساری دیل مل رہی تھی۔بعد میں تحقیقات کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ کراچی سے ایک پیڑوں سے بھرے ہوئے ڈلوں کی ریل گاڑی حیدرآباد طرف جاری تھان ڈاوں کو مضبوطی کے ساتھ نہ رکھنے کیے ان کے گر لوہے کے یکے ہوتے ہیں جو دونوں طرف سے ے کواپنی پیٹ میں لیکر چھت پر جاکریل جاتے ہیں اور انہیں آپس میں کس دیا جاتا ہے۔اتفاق ایسا ہواکہ سب سے آخری ڈبے کا ایک پڑکا کھل کر نیچے لٹک گیا۔جب تک تو یہ گاڑی پڑی پر سیدھی چلتی رہ یہ ٹپکا بھی لڑھکتا ہوا پٹڑی کے ساتھ ساتھ گھٹتا چلا گیا لیکن تیل کی گاڑی موڑ پر پڑی تو اس نکتے ہوئے یکے کا سرائیٹری کی لائن کے ساتھ الجھے گیا۔اب ایک طرف سے انجن کا کھاؤ اور دوسری طرف سے پٹڑی کی پکڑے اگر یا کسی سے کمزور ہوتا ٹوٹ جاتا اور ان کاری کو پینے سے جاتا این کاموا تانیہ یہ ہوا کہ دونوں طرف سے ڈبے پر زور پڑا اور یہ پری کو چھوڑ کر نیچے آرہا اور دوسری پٹڑی پر جاگرا حقیقی ٹاک گاڑی حیدر آباد کی طرف سے آرہی تھی ڈبے کے کر جانے سے ان گاڑی کو کھنے سے مانہ آگیا اورگاڑی رک کی مسند نٹوں میں ڈاک گاڑی کے انجن کی نظر کیے ہوئے ڈبے کے ساتھ ہوئی۔