تحدیث نعمت — Page 599
۵۹۹ پر پھر ہی وہاں سے روانہ ہوئی تو پھر ویسے ہی زور کا جھٹہ کا محسوس ہوا۔گاڑی رائے ونڈ پہنچی تومیں پلیٹ فارم پر اترا اور دیکھا کہ گارڈ صاحب جن کا ڈبہ میری گاڑی سے آگے تھا پلیٹ فارم پر ہاتھ میں بھنڈی سے کھڑے ہیں۔میں نے ان سے ذکر کیا کہ دونوں بار گاڑی کے ملنے پر سخت دھکا محسوس ہوا ہے۔مجھے اندیشہ ہے کہ کھڑے ہوئے مسافروں میں سے بعض گر پڑے ہوں گے اور مک ہے کسی کو تو میں بھی آئی ہوں۔مجھے تو علم نہیں کہ ایسا کیوں ہوا ممکن ہے ڈرائیور کی بے اختیائی ہو۔اگر آپ مناسب بیان فرمائیں تو اسے توجہ دلادیں کہ احتیاط کی ضرورت ہے۔اس کے بعد میں اپنے وقت پر سو گیا جب میں کن ان کے لئے کھڑا ہوا تو گاڑی پوری رفتار سے یہی تھی مجھے ایلیا میمن نے نماز کے دوران میں گاڑی کے رکتے وقت یا پھر ملتے وقت دھکا لگے اور میں گر جاؤں اسے بہتر کہیں نماز بیٹے ہو ا کروں۔چنانچہ میں نے بیٹھ کرنماز شروع کردی۔میں عام طور پر فجر کی سنتوں میں دوسری رکعت میں الحمد شریف کے بعد سورہ اخلاص پڑھتا ہوں ابھی یں نے ہم اللہ کے بعد قل کہا تھا کہ ایسے دور کا بھٹکا لگا کہ اوسان خطا ہوگئے اور میں بائیں طر گرگیا اور کہیں پوٹ ی ریل گاڑی کھڑی ہوگئی میں نجل کر قعدہ کی حالت مں یا ارام کرنا جاری رکھی نماز سے فارغ ہونے و یونانی یا میں بستر پلیٹ گیا لیبی تھاکہ ملازم نے آکر زور سے دروازہ کھٹکٹایا اور کہا گاڑی کو آگ لگ گئی ہے جلدی یا ہر آئیے۔میں نے دریافت کیا ہمارے سیلون کو آگ لگی ہے یا ساری ریل گاڑی کو ؟ اس نے کہا ساری ریل مل رہی ہے۔اتنے میں باہر سے آواز سنائی دی انہیں کہو مہدی یا ہر آئیں۔میں نے جلدی میں کپڑے پہنے اور باہرنکلا تو دیکھا کہ ایک محشر با ہے انتہائی سراسیمگی کی حالت میں حیران کھڑے ہیں۔ہوا تیز مل رہی ہے۔شعلے آسمان کی طرف لپک رہے ہیں اور تیزی سے ٹرین کے عقب کی طرف بڑھ رہے ہیں۔اس اثنا میں گارڈ صاحب آخری دو یا تین گاڑیوں کو جن میں میری گاڑی بھی شامل تھی اور ہوا بھی شعلوں کی زد میں نہیں آئی تھیں ٹرین سے الگ کرنے کے متعلق ہدایات دے رہے تھے۔انجن کے عین پیچھے کے تین ڈلوں میں سے تو کوئی خوش نصیب مسافری بچا ہو گا۔ان تین میں سے ایک ڈبیہ عورتوں اور بچوں کا تھا جن کے اقرباء ودوس ہے ڈبوں میں تھے۔جو سافر انجین سے دور کے ڈبوں میں تھے وہ خود تو بچے گئے لیکن بعض کے ی کی کیا کر راکھ ہو گے اور ان کی دنیا اندھی ہوگئی العالم اليوم من الله الان رحم ( ) والی کیفیت ۱۳ ھی ہو اور اللہ تعالی کے مر ہی سے بات دیر کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔اتنے میں روشنی ہوگئی ہوتی ہے علیحدہ کئے گئے تھے انہیں دھکیل کر جھپر اسٹیشن تک پہنچا یا گیا م فریدی کچھ بغیر سہارے کے کچھ دوسروں کے سہارے۔۔۔۔سٹیشن تک پہنچے جن کو ضربات آئی تمھیں یا آگ سے مر پہنچا تھا انہیں سیشن تک لانے کی تقریر کی گئی لیکن سیٹ پر بھی کام اہواتھا اور افراتفری تھی۔چھوٹا سائیں تھا۔کوئی آرام کا ان یتیمارداری کیلئے دوا دار مرہم پٹی میرسی تا نخورد و نوش کیلئے بھی کوئی اشیاء مہیانہ تھیں۔اگر کچھ تھا و چند بچوں بوڑھوں اور عورتوں کے کام آیا ہو گا۔سٹیشن کے قریب کوئی آبادی نہیں تھی۔سڑک بھی آٹھ میل کے فاصلے سے گزرتی تھی اور درمیانی حصے میں سراسری