تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 601 of 736

تحدیث نعمت — Page 601

이 * ڈاک ٹھوڑی کا انجن تو پیٹڑی سے لڑھک گیا لیکن اس تصادم سے پٹرول والا ڈبہ ٹوٹ گیا اور میٹرول کو اگ لگ گئی۔کا شومئی قسمت سے ہوا تیز تھی اور پٹرول کے ڈبو کی سمت سے ڈاک گاڑی کی جانب چل رہی تھی۔ادھر ان کی نمازت سے تمام بہتا ہوا پٹرول بھڑک اٹھا اور محہ بھر میں ایک ڈبے کے بعد در سرار مشتعل ہوتا گیا۔پٹرول ڈبوں سے نکل کر یٹری کے ساتھ ساتھ بہنے لگا اور آگ کے شعلوں نے تیزی سے بڑھ کر ٹاک گاڑی کے اکثر حصے کو اپنی پیٹ میں لے لیا۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔مجھے ر رہ کر بابا طاہر ایرانی کی یہ رباعی یاد آتی رہی۔شبه تار یک دستنگستان و من مست - قدم از دست من افتاد نشکست! نگاه داره نداریش نیکو نگهداشت وگرنه صد قدح نفتاده بشکست!! وزارت خارجہ سے استعفی سری این را بر کت ہائیکورٹ کے رہ چکے تھے اور کچھ عرصے کیلے کشمیرکے وزیر اعظم بھی رہے تھے۔اکتوبر وار میں بین الاقوامی عدالت کے جم منتخب ہوئے۔ان کی میعاد 4 فروری کو ایسے شروع ہوئی۔قضائے الہی سے نو سر کار میں وہ فوت ہو گئے اور انکی جگہ خالی ہوگئی۔جنوری شام میں جب میں اسمبلی ے سالانہ اعلان سے فارغ ہوکر کراچی واپس آیا تو علم ہو کہ اقوم متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی طرف سے اطلاع آئی ہے ک سری این او کی جگہ پر کرنے کے لئے جو انتخب تو ا س کیلئے موزوں امیدواروں کے نام فلاں تاریخ تک بھیج دیے جائی می نے وزیر اعظم صاحب کی خدمت میں گذارش کی کہ اگروہ اضامن ہوں تومیرا نام بھیج دیا جائے انہوں نے فرمایا میں تمہاری یہاں ضرورت ہے اورمیں نہیں چاہتا کہ تم یہاں سے جاؤ۔۱۹۵ کا فروری شاور میں میان متن از محمد خان صاحب دولتانہ اور سردار شوکت حیات خالف احب نے وزیر اعظم مساب سے مطالبہ کیاکه میان مشتاق احمد خان گورمانی صحب وزیر داخلہ کو اورمجھے وزارت سے علیحدہ کیا جائے۔کچھ عرصہ تو زیر اعظم اس نے اس خیال ہے کہ مطالبہ نجیدگی سےنہیں کیا جارہ اس کو چنداں اہمیت دی لیکن جب یہ دونوں میان روں اور سے ایک پینٹی پارٹیمیں اس کا چاہنے لگاتو وزیراعظم صاحب نے دونوں اصحاب کو کھانے پر بلایا ور ان سے تفصیل نکلی اور یہ دیکھ کرکہ وہ اپنے ملبے پر قائم ہیں اور اسے ترک کرنے پر رضامند نہیں ان سے دریافت رمایا کہ اگر می بیک وقت دو رفقاء کوعلیحدہ کرنامشکل یا خلاف مصلحت پاؤں تو آپ ان دونوں میں سے کس کی علیمد گی پہلے عمل میں لانا چاہیں گے ؟ سردار شوکت حیات صاحب نے فرمایا اس صورت میں وزیر خارجہ کو ہلے علیحدہ کیا جائے کہ یہ اقدام رائے عامہ کے موافق ہوگا۔میاں ممتاز حمد خان دولتانہ صاحب کی رائے تھی کہ اگر دونوں وزراء کو بیک وقت کیا وزیرداخلکو پلے فارغ کیا جائے اور وجہ بیان کی ہم نے مسلم لیگ پالیمنٹر ی پارٹی کے اراکین کو اپنے اس مطالبے سے متفق کرنے کی کوشش کی ہے مشرقی پکستان کے اراکین کہتے ہیں میں وزیر خارج سے کوئی شکایت نہیں۔جہاں تک مشرقی پاکستان کے مفاد کا سوا ہم نے اسے میں مردہ پایا ہے۔اگر وزیر خارجہ کی علم کی "