تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 487 of 736

تحدیث نعمت — Page 487

لرسم گر یہ جرمنی نے ہتھیار ڈال دیے تھے لیکن ابھی جاپان سے جنگ جاری تھی۔کچھ عرصے بعد جاپان نے بھی ہتھیا نہ ڈال دیئے اور جنگ کا خاتمہ ہو گیا۔انگلستان سے واپسی کے سفر میں قاہرہ اور بیروت ہوتے ہوئے میں مشق گیا۔اس سفر میں السید محی الدین الحصنی برادر اکبر اخوم مكرم السید منیر الدین الحصنی میرے ہمراہ تھے بیروت میں السید میر الدین الحسنی بھی مل گئے۔میرا قیام السید بدر الدین الحصنی کے مکان پر ہوا۔پانچوں احصنی مبھائیوں اور دمشق کے دیگر احباب جماعت احمدیہ سے ملکہ مجھے نہایت خوشی ہوئی اور دمشق مجھے اپنا وطن محسوس ہونے لگا سلامہ الشیخ عبد القادر المغربی | دمشق کے قیام کے دوران میں مجھے علامہ الشیخ عبدالقادر المغربی کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقعہ بھی میسر آیا۔شیخ لغت کے امام تھے اور اپنے ہمعصروں میں بہت بلند در رستہ رکھتے تھے میرے دل میں ان کے لئے اس وجہ سے بھی بہت احترام تھا کہ وہ سورہ میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے قیام دمشق کے دوران میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور بہت تواضع سے پیش آئے تھے۔میرے ساتھ بھی بہت تپاک سے ملے اور رخصت ہوتے وقت حضور کی خدمت میں علی وجہ الاحترام سلام پہنچانے کا ارث و فرمایا۔اس کے بعد بھی جب کبھی ان کی حیات میں مجھے دمشق جانے کا اتفاق ہوتا میں ضرور حاضر خدمت ہوتا جس سے وہ بہت خوش ہوتے۔ایک بار مشت جانے پرمعلوم ہوا کہ وہ کسی کا نفرنس کی شرکت کیلئے قاہرہ تشریف لے گئے ہوئے ہیں میں بھی اتفاق سے قاہرہ جارہا تھا وہاں پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سفر صاحب عراق متعینہ قاہرہ کی ملاقات کے لئے تشریف لے گئے ہیں۔میں بھی وہیں حاضر ہو گیا۔بہت خوشنودی کا اظہار کیا اور سفیر صاحب سے فرمایا جماعت احمدیہ تبلیغ اسلام کے سلسلے میں گرانقدر خدمات سر انجام دے رہی ہے۔مسئلہ نبوت کے علاوہ تمہیں ان سے اور کوئی اختلاف نہیں۔اس کے بعد ایک دفعہ میں دمشق گیا تو اخویم مکرم اسید منیر الدین المحصنی نے بتلایا کہ شیخ قاہرہ تشریف لے گئے ہوئے تھے۔جہاں موٹر کے حادثے میں ٹانگ کو ضرب آگئی تھی اب قریباً صحت یاب ہو چکے ہیں۔هم در دولت پر حاضر ہوئے تو حسب معمول بہت خوش ہوئے۔مزاج دریافت کرنے پر فرمایا وهن العظم منی داشتعل الراس شیباً ڈیری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور میرے سر کے بال سفید ہو گئے ہیں) رے میں ملی کہ بتا یا کہ ٹانگ کی ضر قریباً اچھی ہوچکی ہے۔پوری بشاشت سے گفتگو فرماتے رہے۔رخصت ہوتے وقت دروازے تک آنے پر مصر ہوئے اور دروازے پر دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔لیکن عمر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔تھوڑے عرصہ بعد انکی وفات کی اطلاع ملی۔انا للہ و انا الیہ راجعون لبغفر الله له ويجعل الجنة العليا مثواه - دمشق میں آثار قدیمہ اور اسلامی یادگاروں کی زیارت نصیب ہوئی۔مسجد اموی میں حضرت ذکریا علیہ السلام کی قبریم بیرون شہر قریب کے قبرستانوں میں اہل بیت اور صحابہ رضوان اللہ علیہم کی قبروں پر