تحدیث نعمت — Page 488
۴۸۸ الشیخ محی الدین ابن عربی کی قبریمہ۔مسجد اموی کے عقب میں صلاح الدین البیہ بی الغازی کی قریہ دعائی کی رخصت کا وقت آیا تو احباب دمشق کی جدائی کے احساس سے طبیعت پر رقت غالب تھی۔دمشق سے بیروت کے راستے حیفا گئے۔السید محی الدین الحضنی اور السید منیر الدین الحسنی ہمسفر تھے۔حیفا سے اوپر جیل کو مل پر قریہ کتابیں پہنے۔کیا ہی کی اکثر آبادی سلسلہ احمدیہ کے ساتھ مخلصانہ واستنگی رکھتی ہے۔کیا ہر سے مغرب کی طرف سمندری سمندر نظر آتا ہے درمیان میں سہارے کی گولائی کی وجہ سے حیفا کا شہر نظر سے ++ ار تحصیل ہو جاتا ہے۔مسجد احمدیہ میں جو قطعات آویزاں ہیں ان میں سے دو پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے یہ الہامات درج ہیں :- يل عون لك ابد الى الشام اور میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔اس مسجد کا جائے وقوع نہ بان حال سے اس الہام کی تصدیق کرتا ہے۔کبابر سے ہم یہ روشلم گئے۔ایڈن ہوٹل میں قیام ہوا۔السید محی الدین الحصنی دو تین عرب نہ عمی کو مجھ سے ملنے کیلئے ایڈن ہوٹل لائے۔ان حضرات نے مشورہ دیا کہ مں اپنا قیام ولا رونہ مری ۷۱۷۸) ROSE MARY میں جو ایک عرب ہوٹل ہے منتقل کر لوں۔کہا ایڈن ہوٹل میں آزادی سے بات چیت خست نہ ہو سکے گی اور ولا روز مری میں ہمارے لوگ بلا تکلف تمہیں مل سکیں گے اور آزادی سے بات چیت کر سکیں گے۔چنانچہ میں ولا روز مری میں منتقل ہو گیا۔تین دن وہاں ٹھہرا۔اس عرصے میں عرب زعماء سے ملاقاتیں ہوئیں اور مسئلہ فلسطین کے مختلف پہلوؤں کے متعلق عرب نقطۂ نگاہ سے واقفیت ہوئی۔عرب اداروں کے دیکھنے کا موقعہ بھی عرب نقط نگاہ کو تفصیلی اور واضح طور پر مسٹر ہنری کیتان نے بیان کی جو فلسطین کے وکلاء میں بہت ممتاز درجہ رکھتے تھے۔ان کے ساتھ بعد میں بھی بیروت اور دشتق میں ملاقاتیں ہوتی رہیں۔کیا ہیر سے یروشلم آتے ہوئے راستے میں کچھ یہودی بستیاں پڑھتی تھیں۔ان کو بھی دیکھا۔یروشلم میں یہودی ادارے بھی دیکھے۔یروشلم سے کوئی پندرہ میل کے فاصلے پر ایک روسی اشترا کی یہودی بستی تھی۔اس کے دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا۔یہودی ایجنسی کے ڈاکٹر کومین سے بھی ملاقات اور تبادلہ خیالات ہوا۔اسرائیلی سرگرمیوں کو دیکھ کر میرا اثر یہ ایک ایسی سرعت سے یہ لوگ اپنے پاؤں جما رہے ہیں اس کا نتیجہ عربوں کی پسپائی ہو گا۔یہودی بینسی جوان امنیات عرب مالکان سے خرید تی جارہی تھی عرب ان اراضیات سے اپنے ہی ہاتھوں مستقل طور پر محروم ہو رہے تھے۔صنعت و حرفت کے جو شعبے اور ادارے قائم ہو رہے تھے ان سے عربوں کو کوئی منی یا عارضی قائد پہنچنا ممکن تھالیکن کسی مستقل فائدے کا کوئی امکان نہ تھا۔فریاد کرده اراضیات اور صنعتی ادارے سب یہودی مہاجرین کے لئے وقف تھے اور نظر آرہا تھا کہ رفتہ رفتہ ساری عرب آبادی میہودیوں کی دست نگر ہو جائے گی، میں یہ سب کچھ دیکھ کر بہت فکر مند اور دل گرفتہ ہوں۔