تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 486 of 736

تحدیث نعمت — Page 486

حکومت اس بارے میں کیا کر سکتی ہے۔میں نے کہا حکومت ایسے انتظامات قانو نا روک سکتی ہے۔فرمایا یہ تو بیا غیر معمولی اقدام ہے اور اس سے بڑا شور ہو گا۔ظفر اللہ خاں۔حالات بھی تو غیر معمولی ہیں او بر طانیہ کی ذمہ داری بھی بہت ہی غیر معمولی ہے اور بھاری ہے۔وزیہ نو آبادیات۔لیکن میرے علم مں تو اس سم کا قانون ور کہیں رانی نہیں میں نے رفقا کو کیسے آمادہ کہ سکوں گاکہ وہ اس پر رضامند ہو جائیں۔ظفراللہ خان۔قانون کی ضرورت سلم مو و نامہ کی حاجت نہیں رہتی۔لیکن اس سم کے قانون کی مثال بندری ستان کے صوبہ پنجاب میں موجود ہے۔وزیہ نو آبادیات۔یہ بات بیشک محمد موسکتی ہے۔وہاں کیا قانون ہے ؟ ظفر اللہ خاں۔پنجاب استقال ارامنی ایکیٹ کے ماتحت زرعی اراضی کا انتقال ایک غیر زراعت پیشہ مشتری کے حق میں نہیں ہو سکتا۔میں نے اس قانون کی ضرورت اور اس کے عملی حصے کی کیفیت مختصر طور پر بیان کی اورمسئلہ فلسطین کے بعض پھلوں کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔وزیہ صابن میرا شکریہ ادا کیا اور فرمایا ہم دونوں ان امور پر توتم نے بیان کئے ہیں غور کریں گے۔اس ملاقات سے مجھے بڑی مایوسی ہوئی میرا سا تھا کہ سر سیموئیل چودہ کے کہنے پر فلپ میرے ساتھ ملاقات پر تو رضامند ہوگئے لیکن عربوں کی مشکلات میں انہیں ان کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں الہ اعلم بالصواب۔اس کے قریبا پانچ سال بعد بالای کامل اور بھی پیچیدہ موکات حکومت برطانیہ نے آخر کار اس طرح کچھ توجہ کی اور بہت کچھ تحقیق و تفتیش کے بعدایک منصوبہ تیارکیا ہے بطور قرطاس ابیض کے شائع کیا گیا۔اس منصوبے کی دو اہم تجاویز تھیں۔اول یہ کہ یہودیوں کی آمد پر پابندی عائد کی جائے۔دوسری میری پیش کردہ تویہ کہ رب زری راضیات کا انتقال من غ عرب اشخاص رد کردیا جائے۔یہودی مہاجرین کی تعداد کی نسبت قرطاس ابیض ورزی کی دیکھی تیار ہو ان کے والے کے بعد عرب رضامندی کے بغیر مزیدر مودی مهاجرین داخل نہ ہوسکیں شہری جائیداد کے انتقال پر قرطاس ابیض کے تحت کوئی پابندی نہ رکھی گئی ہاں سکنی قطعات کے متعلق طے ہوا کہ صنعتی ضروریات کے لئے حکومت کی اجازت کے ساتھ منتقل ہو سکیں گے۔قرطاس ابیض کے شائع ہونے پھر یوں کیلئے کسی قدیر اطمینان کی صورت تو پیدا ہو گئی لیکن یہودی حلقوں نے بہت احتجاج کیا۔ابھی حکومت قرطاس ابیض کے مطابق احکام صادر نہیں کر پائی تھی کہ دوسری عالمی جنگ چھڑ گئی اورفلسطین کے قبضے کی طرف سے توجہ ہٹ گئی۔جنگ کے دوران میں بیہونیت نے فلسطین میں اپنا تعریف اور بھی مضبوط کر لیا اور قضیہ فلسطین کی پیچیدگی اور بڑھ گئی بیہونیوں نے ایک پورا بر گیڈ برطانوی افواج میں بھرتی کرایا اور آخر جنگ تک اس کی نفری میں کمی نہ آنے دیا