تحدیث نعمت — Page 473
م چونکہ یہ مہتا اور میں لوگوں کیئے بنایا گیا تھا اس لئے یہاں ہرطرح کا آرام میر تھا۔یہاں سے سٹینلے ول اور وا ہوتے ہوئے ہم روم پہنچے جہاں مارا نام سیدنی منی میں ہوا۔ہمارے میزبان سرینڈ کی پوسٹن گریز ہوں تھ مرجان کو اول و یا ارے کا ملا کہ وہ جلد بھی پہنچنے کی کوشش کریں۔ایک ہوتا خیر موسکی بھی اس سے سعد رد بر ملے کا سارا پروگرام گریڈ ہوگیا تھا اور وہ مزید تاخیر کے امکان سے پریشان ہو رہے تھے۔چنانچہ گورنہ جنرل صاحب نے ان کیلئے ایک فوجی ہوائی جہان کا انتظام کر دیا اور وہ دوسری صبح براستہ عدن بمبئی روانہ ہو گئے اور اسی سر پر کو بھی پہنچے گئے۔سرعزیزالحق کو اور مجھے دوران خرطوم ٹھہرنا پڑا۔تمام درمان کاشہر دیکھنے گئے جو سوڈانی مہدی محمد احمد کا صدر مقام رہ ہوچکا تھا۔سوڈان کے دو ممتانہ مذہبی اور سیا سی ان ایام میں سوڈان میں دو ممتاز مذہبی اور سیاسی رہنما تھے ایسید رہنماؤں سے شرف ملاقات میر غنی اور السید سر عبد الرحمن المہدی میں نے دونوں کی خدمت میں حاضر ہو کر شرف ملاقات حاصل کیا۔السید میر غنی معمر یہ درگ تھے قدامت پسند اور پرانی طرز رہائش کے پابند تھے سرعبد الرحمن المہدی کی رہائش ایک نوشنا باغ کے اندر ایک جدید طرز کے بنگے میں تھی وہ السید محمداحمد المہدی کے صاحبزادے تھے جو اپنے والد کی وفات کے وقت ابھی کمسن تھے۔نئی روشنی کے تعلیم یافتہ تھے انگریز میں جنوبی گنگو فرماتے تھے۔دونوں بزرگ میرے ساتھ بہت تواضع سے پیش آئے۔فجرا عما الله - خرطوم سے براستہ قاہرہ ہم عفیفضل اللہ بخیریت کراچی اور وہاں سے دلی پہنچ گئے فالحمدللہ۔دلی پہنچ کر سر عزیمہ الحق کو معلوم ہو گیا کہ ان کے روز یہ تجارت ہونے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔فیڈرل کورٹ آف انڈیا | فیڈرل کور کا اختیار سماعت بہت محدود تھا۔ابتدائی تنازعات کی توندوں کورٹ میں اسی صورت میں سماعت ہو سکتی تھی جب تنازعہ دو صولوں کے درمیان پویا صوبے کی حکومت اور مرکزی حکومت کے درمیان ہر صوبے کی اعلی عدالتوں سے اپیل دیوانی ہو یا فر بیداری اسی صورت میں فیڈرل کورٹ میں آسکتی تھی جیب آئین کی تعبیر کا کوئی سوال زمین تنازعہ ہو۔البتہ اگر یہ شرط پوری ہو جائے تو پھر بہاتی نیز ناز عروسائل کے تصفیے کا بھی فیڈرل کورٹ کو اختیار تھا کسی اہم قانونی سوال کے پیش آنے پر گورنہ منزل کو اختیار تھا کہ وہ عدالت سے مشاورتی رائے طلب فرمائیں۔میں ستمبر اللہ سے ، ارجوی شکار تک فیڈرل کورٹ کا بج رہا۔اس ہے 1ء یں کوئی ابتدائی تنازعہ فیڈرل کورٹ میں پیش نہیں ہوا۔ایک مسئلہ گور نہ منزل کی طرف سے مشاورقی رائے کیلئے آیا۔سوال یہ تھا کہ آیا گورنمنٹ آن انڈیا ایکٹ مہ کے رو سے مرکزی حکومت کو اسٹیٹ ڈیوٹی عائد کرنے کا انتقام ہے یا نہیں۔گورنہ جنرل کی طرف سے سرموتی لال میتلوار پیش ہوئے جو بہت قابل ایڈوکیٹ تھے۔سود کلاء فیڈرل کورٹے میں پیش ہوتے رہے ان میں سے میری رائے میں باتشاء سراں دی کریشنا سوامی آئٹمر جو صو بہ بار اس کے ایڈوکیٹ