تحدیث نعمت — Page 474
۴۰۴ جنرل تھے مسٹر سیلواڈ قابل ترین ایڈوکیٹ تھے۔بعد میں وہ آزاد ہندوستان کے اٹارنی جنرل بھی ہوئے اور اس حیثیت میں حکومت ہند کی طرف سے پر نگال بنام ہندوستان کے تنازعے میں عالمی عدالت کے روبر د بھی پیش ہوئے۔اسٹیٹ ڈیوٹی والے مسلے میں انہیں یہ وقت تھی کہ جس مرحلے پر ہماری رائے طلب کی گئی اس وقت تک حکومت ابھی یہ طے نہیں کر پائی تھی کہ اس ٹیکس کے عاید کئے جانے کی صورت میں وصولی کا کیا طریق ہو گا۔کیا سیکسی کی ادائیگی کی ذمہ داری متوفی کی جائداد پر عاید کی جائے گی یا متوفی کے در شاء پر۔اسٹیٹ ڈیوٹی کے مسلے پر میرا یہ موقف تھا کہ کسی ٹیکس کی نوعیت کا فیصد دن اس کے نام سے نہیں کیا جاسکتا۔اگر اب ہو تو مرکزی یا صوبائی حکومت ہو ٹیکس چاہے عائد کر دے صرف اس ٹیکسی کانام وہ دیکھے۔جس کا اندراج اس کے اختیارات کی فہرست میں ہوں میں نے مٹر سیلواڈ سے دریافت کیا کہ اس ٹیکس کی وصولی کی کیا صورت ہوگی۔انہوں نے جواب دیا یہ تفصیل ابھی تک طے نہیں کی گئی۔میں نے تجھے سوال اس مقصد سے کئے کہ مجوزہ ٹیکس کی نوعیت کا تعین کیا جا سکے ان کا احتراب انکی طران سے بجا دیاگیا کہ یہ تفاصیل بھی طے نہیں ہو پائیں اور آخر کہا ان کے لئے کرنے کا مرحلہ اس وقت آئے گا جب حکومت کو یہ معلوم ہو جائیگا کہ اس ٹیکس کا عاید کرنا اس کے اختیار میں ہے۔میں نے کہا فیڈرل کورٹ تو گورنہ نبی کے سوال کا جواب دینے کے قابل جب ہی ہو سکے گی جب عدالت کو ان تفاصیل کے متعلق کچھ علم ہوسکے۔کیونکہ مرن ٹیکس کے مجوزہ م کی بنا پر سرائے کا اظہار میکن نہیں۔چنانچہ مینے اور تی رائے میں شمولیت سے اس بنا پر انکار کر دی کہ جو کوائف حکومت کی طرف سے عدالت کے روبرد بیان کئے گئے ہیں ان کی بنا پر ہر شخص نہیں کی جاسکتی کہ اس کیس کی اصل نوعیت کیا ہوگی۔چیف جسٹس اور مسٹر جسٹس وردا چاری نے رائے دی کہ بادی النظر میں در بیان تک وہ اندازہ لگاسکتے ہیں مجوزہ ٹیکس مرکزی حکومت کے اختیارات میں شامل ہے۔میں اب بھی میں سمجھتا ہوں کہ وہ رائے حسکی بنیاد مفروضات پر ہو، حکمت کیلئے کارآمد نہیں ہوسکتی۔سرما رس گو ائیر چیف جسٹس آف انڈیا صوبائی اعلی عدالتوں سے جو اپیل ہمارے رو برد آتے رہے ان میں مجھے یاد نہیں کبھی سرماری گوار سے اختلاف رائے ہوا ہو۔اختلاف کا امکان اسٹے بھی کم تھاکہ ایک تو وہ نہایت آزاد خیال تھے۔حکومت کی حمایت کا کوئی شائبہ ان کی طبیعت یاد من میں نہیں تھا۔دوسرے وہ ہر قسم کے نسلی تعصب سے آزاد تھے۔ایک اپیل میں ڈیفنس آف انڈیا کے تحت وضع شدہ ایک قائدے کے جواز کا سوال اٹھایا گیا۔حکومت کی طرف س برای این مرزا اٹارنی تنزل کا انڈیا جو پہلے حکمت ہندمیں وزیر قانون رہ چکے تھے پر دی کر رہے تھے۔بحث سنتے کے بعد ہماری متفقہ رائے یہ ہوئی کہ قاعدہ نہ یہ بحث ایک کے تفویض کردہ اختیارات سے تجاوز ہے اور اس نے قابل پذیرائی نہیں سر مارس واٹر کو اسرائے پر قائم ہونے میں کسی مصلے پر کوئی وقت پیش نہیں آئی۔ایک فوجداری اپیل میں آئینی سوال کے علاوہ حکومت کے خلاف منافرت کے جذبات انگیخت کرنے کا بھی سوال تھا۔بحث کے دوران میں