تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 472 of 736

تحدیث نعمت — Page 472

یات کا خیرمقدم کرنا ایک مذاق بن گیا۔تیسرے دن کی سر پر کوہم نے گاڑی کی داد ٹیکسی کرایہ پر لی اوردم قریب ترین شہر میرک ی سر کو چلے گئے میں سے ایک مرتبہ میر جاچکاتھا اورمجھے علم تا کیا کچھ دیکھنے کے قابل نہیں لیکن وقت رہتے کیلئے یہ بھی غنیمت تاکہ ٹیکسی میں تھی شہر سے گذرتے ہوئے ڈرائیور نے ہاتھ سے اشارہ کرکے کہا میاں ہماری ہوائی حملے سے حفاظت والی کوٹھڑیاں ہیں۔میں نے را سیر کے لیے میں دریافت کیا تمہیں کس طرف سے خطرہ ہے؟ ڈرائیر نے فورا پری سنجیدگی سے کہا دونوں طرف سے! اس پر سر عزیز الحق اور سر ان کھلکھلا کر ہنس دیے۔ہماری دو پر کی سیر کا سب سے دلچس لحظ یہ تھا۔واپسی پر جب ہم اور کے قریب پہنچ رہے تھے تو ڈرائیور نے دائیں جانب ایک نام کی طرف اشارہ کرکے کہایا شاہ انگلستان کا بھی ایک گھوڑا پل رہا ہے۔اس شام جب ہم شین پہنچے تو علم ہوا کہ کشتی روانہ ہونے کو تیارہے۔چنانچہ ہم سوار ہوگئے۔دس بجے روانہ ہوکر ایک کے کے قرب لزبین پیچھے شہر میںایک بلند مقام پر ایک ہوٹل میں گئے۔جہاں پورے کھانے کا انتظام تھا۔مجھے تواتنی جلدی دوبارہ کھانے کی اشتہاتھی نہ سمیت۔میرے دونوں ساتھیوں نے بھی کی ظاہر کیا لیکن ہمارے بعض ساتھیوں خصوصاً فوجی افسروں نے تو اس وقت تک رغالبا پر لگال کی غیر جانبدارانہ حیثیت کے اعترام میں اوردی نہیں بنے ہوئے تھےاپنی امت کے خوب ہو ہر دکھائےاور جو کچھ مہیا کیاگیاتھا اس کی خوب داد دی۔ہم بجے قبل فریم لند ن سے روانہ ہو کر بارہ گھنٹے کی پرداز کے بعد مغربی افریقہ کے ساحل پریمیا کے دارالحکومت باتھرسٹ پہنچے ہم تینوں کو گورنمنٹ ہاوس سے وہاں آرام کرنے اور شام کے کھانے کی دعوت پہنچی۔جسے ہم نے شکریے کے ساتھ قبول کیا۔گورنمنٹ ہاؤس میں ہمیں غسل کا موقعہ بھی مل گیا۔گورنہ صاحب خود تو دورے پر تھے۔کھانے پر ان کی بیگم صاحبہ نے میزبانی کے فرائض ادا کئے۔دس بجے شام کم با نفرسٹ ے دوران ہو کر بارہ گھنے کی مزید پردازکے بعد یوں پینے اورگور نہ منزل صاحب کے ہاں مہمان ہوئے جہاں میں امریکہ جاتے ہوئے بھی بھر چکا تھا۔یہاں سے آگے مواصلات کا الگ انتظام تھا۔اس وجہ سے ہمیں تین دن یہاں ٹھہر نا پڑا۔لیگوس میں جامع احمدیہ کی عمارت ( جماعت احمدیہ لیگوس نے مجھے جامع احمدیہ کی عمارت کا سنگ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب بنیاد نصب کرنے کیلئے ارشاد فرمایا۔گورنہ منزل بوردیان اور سر عزیز الحق نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔میں نے اپنی تقریر میں اسلامی روزانہ زندگی کے نظام اور معاشرتی اور ثقافتی اقدار کے استحکام کے نقطہ نگاہ سے مسجد کی اہمیت واضح کرنے کی کوشش کی۔تقر سے واپسی پر سر عزیز الحق نے فرمایا۔ہمیں تو آج معلوم ہوا ہے کہ مسجد ہر لحاظ سے سلمانوں کی جماعتی زندگی کا مرکز ہونی چاہیے اتیک توہم میں سمجھتے رہے تھے کہ مسجد ایسے لوگوں کے لئے مانہ پڑھنے کی جگہ ہے جن کے مکان فراخ نہ ہوں اور جنہیں گھر میں نماز پڑھنے میں دقت ہو۔البتہ جمعہ کے دن ہرمسلمان کو جمعہ کی نمانہ کے لئے مسجد میں جانا چاہیئے لیگوس سے روا نہ ہو کہ ہم حسب توقع پہلی رات لیوپولڈ ول ٹھہرے۔لیکن دوستے دن کسی وجہ سے براہ راست کسی نے دل جانے کی بجائے ہمیں چکر کاٹ کر انہ تجھ وی نو کی جانب جانا یا یہاں میں ایک ہسپتال میں ٹھرا باگا :