تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 388 of 736

تحدیث نعمت — Page 388

٣٨٨ ی جی ایس پینٹی پہنچا تومجھے خیال ہو کہ اس محلے پر قائد اعظم مرخان سے مل لینا بھی مناسب ہوگا۔چنانچ میں ان کی خدمت میں حاضر جوا اور تجارتی معاہدے کی گفتگومیں پہنچ پر چل رہی تھی مختصرا گوش گزار کی میں جانتا تھا کہ تفصیل انہیں سری شوتم اس ٹھاکر داس سے معلوم ہو جائے گی کیونکہ بیٹی کے تجارتی حلقوں کے ساتھ ان کے تعلقات میرے دوستانہ تھے۔میری بات سنکر انہوں نے فقط انا فرمایا کہ تم اپنی سی کوشش کئے جائے اگر نتیجہ ہندوستان کے خون میں فائدہ مند ہو گا تو مجھے نے معاہدے کی تائید می تامل نہ ہوگا۔میں نے کہا بھی یہ ہی کہا جاسکتا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹے لیکن میں آپ سے یہ توقع رکھتا ہوں کہ اگر نیا معاہدہ طے ہو جائے تو آپ اسکا جائزہ تجارتی نقطہ نگاہ سے اس کے سیاسی نقطہ نگاہ سے نہ لیں گے۔فرمایا میں مسیح موقف ہے اور میں ایسا ہی کروں گا۔شد اء میں میں پھر وند کے ساتھ لندن گیا۔اس وقعہ ہندوستانی کپاس کی خرید کے مسئلے پر بحث شروع ہوئی۔جب مسٹر براؤن کے اور میرے درمیان اس مسئلہ پر مفاہمت ہوگی اور اس پر میرے مشران بھی رضامند ہو گئے تو یہ طانوی وزیہ جارت کرنے کا نہیں یہ کونین کی موت معلوم نہیں تجویز یه تیکه بیانیه ارسال سن دوستان سے ایک منفرد مقداری کیا اس خرید کرے۔اگر بر طانیہ کی خرید کپاس معاہدے میں درج شدہ مقدارہ کے مطابق ہو تو لنکاشائر سے ہندوستان در آمد ونیوالے سوتی کپڑے پر درآمدی محصول رعایتی شرح سے لگایا جائے اگر ریر کردہ اس کی مقدار کم ہے توکی کے مطابق درآمدی محصول میں اضافہ ہو جائے۔برطانوی وزیر تجارت کرنل سینے کاکہنا تھاکہ یہ شرط تعمیری ہے اور ہمارے لئے تو مین کا بہت ہے، دوسرے انہیں مجوزہ مقدار پر بھی اعتراض تھاکہ یہ بہت زیادہ ہے اور مکن ہے برطانیہ میں اتنی کی اس کی کھپت نہ ہو یہ رکاوٹ پڑا ہونے پر ہی پھر مر فنڈ لیر سٹوارٹ سے ملا۔انہوں نے فرمایا مٹرولسن وزیر اعظم کے مشیر خاص ہیں میں ان پیدا وزیراعظم کے ساتھ تمہاری ملاقات کا نظام کر دنیا ہوں۔ان کا دفتر ھی نیز او منگ سٹریٹ ہی میں ہے۔تم انہیں معاملہ سمجھا و و و و وزیر اعظم کو شوروی که به معلمین میں ہونا چاہے میں نے کار اون تو ہے میں کرنا مینے یہ معاملہ کینٹ میں لے جانے پر رضامند نہیں۔انہوں نے فرمایا اگر زیرا علم کم یں گے تو انہیں چارہ نہیں ہوگا۔وسن زیر اعظم کے ساتھ بات کرنے سے پہلے باؤن سے دور دریافت کرے اور جبران کو ماند پائے گا وزیر اعظم وتا ے گا ملک کو کوئی اعتراض نہیں البتہ وزیر تجارت کو تا ہے۔یہ میری کارگر بوٹی مارکیٹ میں گی اور با وجود یہ تجارت کر لینے کے تال کے وزیر اعظم کی راے کے مطابق جو کچھ ٹر براؤن کے اور مرے درمیان طے ہوا تھا اس کی کیٹ نے منظوری دیدی۔اب سے مشکل یہ محلہ ایا گیا ایک کی درآمد پرعایتی شرح حصول کیا مقر کی جائے میں نے مسٹر براؤن سے کہا کہ ہم دومرتبہ اسلے میں انگلستان آچکے ہیں۔اب انکا شائر دالوں کو چاہئے کہ وہ شروع مٹی میں ملے آجائیں اور اس آخری مسئلے پر وہاں گفتگو ہو۔انہوں نے کہا مناسب ہے میں شروع اپریل میں دالیں ولی پہنچ گیا۔شروع مٹی میں لنکا شانہ کا دند ملے آیا۔لیکن ہماری آپس میں مفاہمت نہ ہو سکی۔البتہ ہمیں یہ انداده