تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 387 of 736

تحدیث نعمت — Page 387

محکمہ تجارت اور بعض مقامات پر وزراء خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔اور ہندوستان کی تجارت کے فروغ دینے کے متعلق تبادلہ خیالات کیا۔چونکہ ان ممالک میں ہندوستان کی براہ راست کوئی نمائندگی نہیں تھی اسلئے ہر جگہ برطانوی سفارت خانے کی وساطت کی محتاجی تھی۔کہیں کہیں میرے اپنے ذاتی تعلقات بھی محمد کوٹے سفر سے میری ذاتی توقیت میں بہت اضافہ ہوا۔میرے سفر کا مقصد صرف ابتدائی معلومات حاصل کرنا تھا۔میں اس نتیجے کیہ کہنا کہ مند دستان کی تجارت کو ان ملکوں میں فروغ دینے کے لئے مقوائم بعد وجہد اور بالخصوص ہندوستان سے تجارتی وفود بھیجنے کی ضرورت ہے۔بوڈا اپسٹ میں حکومت کی طرف سے علاوہ دیگر معلومات ہم پہنچانے کے مجھے ان کا زراعتی عباب گھر دکھانے کا انتظام بھی کیا گیا۔اسے دیکھ کرمجھے حیرت ہوئی کہ اس ملک نے جو سیلی عالمی جنگ کے بعد اپنی سابقہ دوست کے مقابلے میں ایک چھوٹا سالک ہوکر رہ گیا ہے اپنی پیار کی بر آمد کے متعلق کیا عمدہ انتظام کیا ہوا ہے۔عجائب گھر کے اندر داخل ہوتے ہی ایک بڑے مال کی سامنے کی دیوار یہ بڑے پیمانے کا سارے ملک کا نقشہ بنا ہوا تھا جس پر مختلف مقامات پر چھوتے چھوٹے بجلی کے بلب مختلف رنگوں کے لگے ہوئے تھے جو افسر ہیں عجاب گھر دکھا رہے تھے وہ نقشے کے سامنے رکھی ہوئی میز کے پاس کھڑے ہو کر میز کے ساتھ لگے ہوئے بٹنوں میں سے ایک دبا دیتے تو ایک خاصی رنگ کے بلب مثلا سرخ یا سبز یا زرد پر روشن ہو جاتے اور وہ افسر ہمیں بتا دیتے کہ ان مقامات پر جو اس وقت روشن میں خالی جنس یا فلاں پھیل کی پیداوار ہوتی ہے جس کی کل مقدایہ اتنی ہے۔اس میں سے اس قدر ملک کے اندر خرچ ہوتی ہے اور استقدر باہر بھاتی ہے۔عجائب گھر کے دوسرے کمروں میں انہوں نے ہمیں بعض تفاصیل باہر جانیوالی پیداوار کے کے ضبط کے متعلق تبائیں۔مثلاً ایک سادہ سالکڑی کا بورڈ دکھایا در تابی که بهای بهای سیب دوسرے مالک کوبھیجتے کیلئے مکسوں میں بند کئے جاتے ہیں وہاں اس قسم کے بورڈ لگے ہوئے ہوتے ہیں۔ہر سب ایسے بورڈ کے سوراخوں میں سے گذرتا ہے اور ویب باہر کھینے کیلئے مقره وزن یا حج سے کم ہوتا ہے وہ چھانٹ کر الگ کردیا جاتاہے۔ستائیس سال بعد میں جاپان میں بھی میںنے ایک سیبوں کی پیکنگ فیکری میں بڑے پانے پر یہ نظام دیکھا ہنگری میں مھے تایا گیا کہ کل سے باہر جانیوالی اجناس اور اشیاء پرحکومت اسقدر بنی ہے کہ کوئی ناقص پز با برنہیں جاسکتی۔ری داس میں اگرپاکستان میں بھی ایسابی نظام کر دیاجائے پاکستان کی ساکھ بیرونی تجارتی حلقوں میں ہت بڑھ جائے۔افسوس ہے کہ اس وقت پاکستانی تاجروں کی شہرت غیر ملک میں قابل رشک نہیں یتیم کے شروع میں پھر زی الوی وزارت تجارت کے ساتھ گفتگو کا ایسار شروع ہو گیا۔اور وسط التوتر یک پہلے مراحل کے متعلق ہمارے نقطہ نگاہ سے خاطر خواہ سمجھوتہ ہوگیا لیکن دونوں جانب سے مشکل سال کامل انی باقی تھا۔ان کے متعلق یہ قرار پایا کہ فی الحال گفتگو کا سلسلہ ملتوی ہو اور شروع سال میں پھر عابدی ہو۔اس وقت لنکا شائر کے سوتی کارخانہ والوں سے بھی مشورہ لاندم ہو گا۔