تحدیث نعمت — Page 389
ہو گیاکہ وہ کیا طالبہ کرتے ہیں اور چار دنا پارس تندر پر امن ہوسکیں گے۔میں نے برطانوی وند کے ساتھ آخری گفتگو کا خلاصہ وائسرائے کی خدمت میں پیش کر دیا اوراپنا اندازہ بھی بتایاکہ میرے خیال میں اس بنچ پر معاملہ طے ہو سکے گا۔ساتھ ہی میں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ یہ طانوی وفد تو بحری جہانہ سے واپس ہو نیوالا ہے۔بہتر ہو میں ہوائی جہانہ سے انگلستان چلا جاؤں۔اگر چہ کی گفتگو تو نکا شائر کے وفد کے واپس پہنچ جانے پر ہی شروع ہوگی۔اور اتنے میں ہمار مشاورتی دند بھی لندن پہنچ جاے گا لیکن مجھے موقع مل جائے گا کہ یں غیر رسمی گفتگومیں پنا نقطہ نظر پہلے پیش کرلوں گا۔وائسرائے اس پر راضی ہو گئے اور میں شروع ہون میں لندن چلا گیا۔میرے لئے اپے مشاورتی وند کے لحاظ سے ایک مشکل یہ تھی کہ عوامر طے کرنا باقی تھا اس کا اثر ہندوستانی سوتی کپڑے کے کارخانہ داروں پر پڑتا تھا۔وہ چاہتے تھے کہ نکا شائر کے سوتی کپڑے پرور آمدی محصول میں اول کوئی رعایت دی ہی نہ جائے لیکن اگر رعایت دی لازمی ہو جیسے وہ بھی جانتے تھے کہ اندمی ہے، تو کم سے کم رعایت دی جائے۔اس کا حل می نے میں سوچا کہ حسبقدر رعایت دینے پر میرامش درتی وند آمادہ تھا میں اس سے بھی کم رعایت دینے پر لنکا شائر والوں کے ساتھ اڑا رہ ہوں۔اس طرح میرے پاس کچھ گنجائش رعایت کو نہ بادہ یکی ہی میں امیر تھا تا کہ خواہ لنکاشائر والے راضی نہ بھی ہوں۔پھر بھی مٹر براؤن کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیں گے جس کے نتیجے میں رعایت کی منظور شدہ شرح اس شرح سے کچھ کرسی ہوگی جو میرے مشاورتی وفد کے کارخانہ دار اراکین کی آخری صدیقی سر پر شو تم اس ٹھاکر داس اور مٹر کستور بھائی لال بھائی کا موقف تو سارا وقت معقول رہا مٹیریا کا موقف بظاہر تو یہ تھا کہ ہم جو طلب کرتے ہیں وہ ہمیں پورا لنا چاہیئے اور تمھیں دوسری طرف کا کوئی مطالبہ منظور نہیں کرنا چاہئے لیکن دوسرے دونوں کے سمجھانے بجھانے سے مان جاتے تھے۔آخر ایک دن ایک معاملہ پر وہ اڑ گئے۔اب تک ہم سب کاردانی اتفاق رائے سے کرتے پہلے آئے تھے۔میںنہیں چاہتا تھا کسی ایک محلے میں بھی ہمارے درمیان اختلاف اقی رہ جائے۔آرم سر بہلانے کہا ایا می مان جاتا ہوں بشرطیکہ معاہدے کی اس شق کی تعبیرات آنے پر مجھ پر چھوڑ دیجائے۔میں نے کہا میری تو یہ کوشش ہے کہ معاہدے کی ہر ایسی واضح ہو کہ تیر کی قوت ہی نہ آئے لیکن پھر بھی ہو سکتا ہے کہ ایک موقعہ پیدا ہو جائے۔یہ معاہدہ دو حکومتوں کے درمیان ہوگا۔اختلاف کی صورت میں کوئی طریقی ختلاف کے رفع کرنیکا بھی آپس میں لے یا جائیگا۔سیکسے ہو سکتا ہے کہ تیرآپ پر چھوڑ دی جائے۔مسٹر مہمانے فرما کانگریس میں تو جب بابوجی (گاندھی جی ) کے ساتھ اختلاف ہوتا ہے تو وہ آخرمیں کہ دیتے ہیں، انجام تمہارا فارمول ان لیا ہوں بشرطیکہ اس کی بغیر مجھ پر چھوڑدیجئے میں نے کہ کانگریس میں تویہ بات لی جاتی ہے کیونکہ آخ آپ کو گاندھی جی کی بات ماننے کے بغیر چارہ نہیں لیکن روحکومتوں کے درمیان تو یہ بات تسلیم نہس کی جاسکتی کہ اختلات کی صورت میں آپ کی غیر تسلیم کی جائے۔اول تو کوشش یہ ہونی چاہئے کہ عبارت ایسی صاف اور واضح ہو کہ اس کے مطلب کے متعلق کوئی اختلاف پیداہی نہ ہو۔اور اگر اختلاف پیدا ہو ہی جائے تو اس کا فیصلہ کسی غیر جانبدار تالت یا