تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 370 of 736

تحدیث نعمت — Page 370

اور ملزم کے ارتکاب جرم کو معقول شبہ کی گنجائش کے بغیر سر ہلو سے محکم طور پر ثابت کرنا اتفاقے کا فرض ہے کریت کے حکم کے خلاف اپیل کرنے میں تو اس باد ثبوت میں اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔میرے فاضل دوست نے صرف اتنا کیا ہے کہ مقدمے کے کوائف بیان کرنے کے بعد متعلقہ رجبرات میں سے چند اندریا جات کی طرف آپ کو تو جہ دلائی ہے بعین سے بادی النظر می ملزم کی فرمہ داری کا قیاس ہو سکتا ہے۔لیکن جرم ثابت کرنے کیلئے اتنا کافی نہیں مجسٹریٹ نے بھی ان اندراجات پہ توجہ کی ہے اور اپنے فیصلے میں وجوہات دیئے ہیں کہ کیوں ان اندراجات کی بنا پر جرم ثابت ہونا قرار نہیں دیا جا سکتا۔میرے فاضل دوست نے ان وجوہات کے متعلق ایک لفظ تک نہیں کہا جس سے لازم آتا ہے کہ میرے فاضل دوست ان وجوہات کی تردید سے قاصر ہیں۔اس صورت میں اپیل خارج ہونا چاہیئے۔مسٹر جسٹس زندگی لال۔مسٹر ایڈوکیٹ جنرل ! میں بھی حیران ہو رہا تھا کہ آپ نے اپنا فرض پورے طور پر ادا نہیں کیا اور ہمارے فرضوں میں پختہ طور پر یہ تاثر پیدا نہیں کیا کہ فاضل مجسٹریٹ کا فیصلہ قطعی طور پر غلط اور بے جا ہے۔جب تک ہم اس نتیجہ پر نہ نھیں آپ اپنی اپیل میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔فوجداری مقدمات میں تو اگر ملزم کی طرف سے بھی اپیل ہو جب بھی بار ثبوت استغاثے پر ہوتا ہے اور آپ کی اپیل ریت کے خلاف ہے۔ایڈوکیٹ جنرل نے میری طرف ٹیڑھی نگاہ سے دیکھا اور مزید بحث کے لئے کھڑے ہوگئے۔میری کوشش یہ تھی کہ وہ یہ جبڑوں کے اندراجات کے تھیلے میں الجھیں اور میری باری آنے تک جج صاحبان اس تھی سے پریشان ہو جائیں جس کا میں فائدہ اٹھا سکوں۔ایڈوکیٹ جنرل کی چالی یہ ھی کہ یہ الجھن پیدا کرنے کی ذمہ داری مجھ پر ہوتاکہ مجھ صاحبان پر یہ اثر ہوکہ معاملہ توصاف ہے لیکن ملزم کا وکیل خواہ مخواہ الجھن پیدا کر رہتا ہے۔انکی یہ چال کامیاب نہ ہوئی بلکہ حج صاحبان کی طبائع پر الٹا نہ ہوا کہ ایڈوکیٹ جنرل اپنی ذمہ داری نبھانے سے جی تجماتے ہیں ضرور ان کے کیس میں کچھ کمزوری ہے۔تمہیں احتیاط کرنی چاہیئے کہ ہم ملزم کوکسی جائز فائدے سے جو قانون اسے دیتا ہے محروم نہ کر دیں۔ایڈوکیٹ جنرل کو دن کا اکثر حصہ ریسٹڑوں کے اندراجات کی وضات کرنے اور نہ بانی شہادت اور اندرا حیات میں تطابق ظاہر کرنے میں صرف کرنا پڑا۔جب انہوں نے بحث ختم کی تو میرا کام بہت حد تک ختم ہو چکا تھا۔ایک تو چیف جسٹس پریشان ہو رہے تھے۔کہیں بہت لمبا ہو گیا تھا۔وہ اوسطاً دن میں چھ سات پھانسی کی اپیلیں فیصلہ کرنے کے عادی تھے اور یہاں چینی کی چند طوریوں کے کرائے کی رقوم کے عین کی گتھی سلجھاتے پورا دن صرف ہوگیا۔اور ابھی صف ستانی کرنے بحث ختم ہوئی تھی۔انکی طبیعت میں یہ تاثر پیدا ہونے لگا کہ اگر جرم ثابت کرنے کے لئے استغاثے کو اتنے پیچدار مراحل میں سے گذرنا لازم ہے تو ہر قدم پر شک کا امکان باقی رہ جاتا ہے۔مسٹر جیٹس ننگی لال بحث کی طرف توجہ کر رہے تھے۔لیکن مجھے انکی طبیعت کا تجربہ تھا کہ ذرا بھی "