تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 371 of 736

تحدیث نعمت — Page 371

شک کی گنجائش باقی رہ گئی تودہ چیف جسٹس پر سزا دینے کے لئے زور نہیں دیں گے۔ظفر اللہ خان - سناب عالی میں اپنے فاصل دوست کا ممنون ہوں کہ انہوں نے آپ کی توجہ مسل کے ضروری حصوں کی طرف منعطف کرادی ہے جس سے آپ نے دیکھا کہ زبانی شہادت صرف ملزم کے دفتر کے بانی عملے کی ہے اور اس شہادت میں یہ کمزوری ہے کہ اس قیاس کا بہت امکان ہے کہ حملہ گواہان یا ان میں سے بعض خود اس مبین میں شریک تھے۔کیونکہ غالب قیاس ہے کہ انکی شرکت یا کم سے کم ان کی مجرمانہ غفلت کے بغیریہ عین نہیں ہو سکتا تھا۔رجسٹر کے جملہ اندرا جات کا مین پر استغاثے کا انحصار ہے یقینی طور پر ملزم کے قلمی ہونا ثابت نہیں۔(زبانی شہادت کے بعض حصوں اور اندراجات میں سے بعض کی طرف توجہ دلانے کے بعد مں نے گذارش کی) جناب عالی اس تمام سردرد کی کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ممکن ہے ملزم نے اکیلے رقوم منین کی ہوں۔ممکن ہے اس نے دفت کے محلے کے تمام یا بعض افراد کے ساتھ مل کر یہ رقوم معین کی ہوں اور ممکن ہے کہ دفتر کے عملے کے باقی افراد یا ان میں سے بعض نے یہ رقوم عین کی ہوں اور الزام ملزم کے سر تھوپ دیا ہو۔میرا فرض نہیں کہ میں ملزم کو بے گناہ ثابت کروں۔استغاے کا فرض ہے کہ اسے مجرم ثابت کرے۔قیاس یا غالب قیاس کہ ملزم نے یہ جرم کیا ہے اسے مجرم ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں۔ہو شہادت تحریری یا زبانی آپ کے سامنے موجود ہے اس سے ملزم کے خلاف تحریم ثابت نہیں ہوتا۔بیشک امکان تحریم ظاہر ہوتا ہے۔زیادہ سے زیادہ غالب قیاس پیدا ہوتا ہے کہ اس سے جرم سرزد ہوا۔اور مں پورے وثوق سے یقین رکھتا ہوں کہ آپ محض غالب قیاس کی بنا پر ملزم کو مجرم قرار نہیں دیں گے۔میں نے غالب قیاس کی محرک ملزم کے ملوث ہونے کو تسلیم کر کے ایک طرف تو جج صاحبان کے ضمیر کی نلی کردی اور دوسری طرف ان کی قانونی ذمہ داری کے احساس کو ابھا نہ دیا۔جب ایڈوکیٹ جنرل نے جواب دینا شروع کیا تو جج صاحبان آرام سے بیٹھے اطمینان کا سانس لے رہے تھے کہ اس تھیلے سے خلاصی کا راستہ نکل آیا۔جو سنی ایڈوکیٹ جی نے جواب تم کیا چیف جسٹس نے فرمایا۔مسٹ ایڈوکیٹ جنرل ہم نے دو دن اس کیس پر ضائع کئے ہیںاور ہم اس نتیجے پر پنچے ہیں ک ریل کے محلے میں ہر کوئی جھوٹ بولنے کا عادی ہے۔اس صورت میں ہم اس بد قسمت لزم کو سز کے لئے چن لیتے کی کوئی وجہ نہیں دیکھتے۔ہم اپیل خارج کرتے ہیں۔دیوان رام لال صاحب ایڈوکیٹ جنرل نے ایک دن مذاق میں مجھ سے فرمایا، ظفراللہ ! اب تمہارے وزارت کا عہدہ سنبھالنے کا وقت قریب آرہا ہے۔یا توتم میرے ساتھ یہ دوستانہ مرد کا سلوک کرد که تم پر مکی بند کردو اور یا چرمی تمہارے یہاں سے رخصت ہونے تک رخصت لے لیتا ہوں۔مقدمات کا فیصلہ تو ایک طرف ہو یا دوسری طرف اس سے مجھے پرا نی نہیں لیکن مجھے ان یہ ہے کہ اگرکسی رو تم نے یہ کہ دیا میرا نام تو گناہ ہے البتہ ایل ایڈوکیٹ جنرل نے کیا ہے تو چیف جسٹس پھانسی کا رسہ میرے گلے میں ڈال دیں گے۔لاہور سے رخصت ہونے کے چند دن قبل گورنمہ اور وزن را کی طرف سے مجھے الوداعی ڈنہ دیا گیا۔میزبانوں نے تو از راہ