تحدیث نعمت — Page 369
ملزمان کے خلاف گواہوں نے جھوٹ بولا ہے۔تو ہم دوس کے دو ملزمان کے خلاف اسی شہادت کی بنا پر جرم کیسے قائم رکھ سکتے ہیں۔اس صورت میں ہم چاروں کو بری کرنے پر مجبور ہیں۔میرے فاضل رفیق کی بھی یہی رائے ہے۔چنانچہ چاروں ملزم پری ہو کہ یہ نا ہوئے۔چیف جسٹس کے اجلاس میں ایک بارمجھے کچھ مشکل کاسامنا ہوا۔ملک وال کے اسٹیشن کے چیف گدرس کاری پر توہندو تھے غلین کے تین الزام عائد کئے گئے میسر فیلیوس میریٹ درجہ اول گجرات کی عدالت میں مقدمہ چلا ملزم کے چھوٹے بھائی گجرات میں وکیل تھے۔وہ بھی ملزم کی طرف سے پیروی کر رہے تھے اور ایک سیر وکیل بھی ان کے ساتھ شامل تھے جب بیٹے نے۔ملزم کو بری کردیا۔سرکار کی طرف سے ہائی کورٹ میں اپیل ہوئی۔اپیل میں ایک الزام کو ترک کر دیا گیا۔لیکن دو کو قائم رکھا گیا۔ملزم کے چھوٹے بھائی میرے پاس آئے اور کہا میں چودہ سال پہلے لاء کالج میں تمہارا شاگرد رہ چکا ہوں۔اس تعلق کی بنا پر تمہارے پاس آیا ہوں کہ تم اس مصیبت میں ہماری مد کرو۔میں نے درد کیا کہ اس مقدمے میں کے پوسٹروں کی پڑتال کی ضرورت ہوگی اور میں اس فن سے دور کی شناسائی بھی نہیں رکھتا۔آپ کسی ایسے وکیل کے پاس جائیں جسے ان امور کی واقفیت ہو اور جو پوری توجہ سے جبڑوں کی پڑتال کر سکے۔وہ مصر موٹے کہ میں ان کے بھائی کی طرف سے ضرور محبت کر دی۔آخر کار میں رضامند ہو گیا تا کہ ان کے دل میں یہ خیال نہ ہو کہ میں ان کے ہندو ہونے کی وجہ سے یہ ذمہ داری نہیں لینا چاہتا۔میرا تامل اس وجہ سے بھی تھا کہ مجسٹریٹ کا فیصلہ بالکل بودا تھا میں کے پڑھنے سے زمین پر یہ اثر ہوتا تھاکہ ملزم کی ہے جبار عایت کی گئی ہے اپیل کی سماعت چیف جسٹس کے اجلاس میں تھی۔ان کے ساتھ مٹر جسٹس زندگی لالی شامل تھے۔سرکار کی طرف سے دیوان رام لال صاحب ایڈوکیٹ جنرل پر دی کر رہے تھے۔ایڈوکیٹ جنرل نے کو الف بیان کئے۔رجبڑوں کے اندرا جات کی طرف توجہ دلائی اور کہا جناب عالی ملزم کا تحریم واضح طور پہ ثابت ہے۔چیف جسٹس۔یہ بالکل واضح کہیں ہے۔ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ اس شخص نے اتنی جرات کیسے کی ؟ ایڈوکیٹ جنرل۔جناب عالی اب میں آپ کی توجہ دوسرے الزام کی طرف منعطف کراتا ہوں۔چیف جسٹس - مٹر ایڈوکیٹ دوسرے الزام کے متعلق آپ کیوں زحمت اٹھاتے ہیں ؟ کیا ایک تجرم ثابت ہو جانا کافی نہیں ؟ ایڈوکیٹ جنرل۔جناب عالی ایک تحریم بھی کافی ہے۔لیکن دوسرا جرم بھی ثابت ہو تو سزا تجویز کرنے میں آپ کو مدد ملے گی۔چیف جسٹس سرکاری روپیہ کا ملین سنگین جرم ہے آپ فکر نہ کریں۔ہم سنا میں نمی نہیں کریں گے۔چودھری صاحب آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں ؟ ظفر اللہ خاں۔جناب عالی اگر ایڈوکیٹ جنرل مزید کچھ کہا نہیں چاہتے تو میری گذارش بہت مختصر ہے۔