تحدیث نعمت — Page 303
4 WELL, MY DEAR ? م میں الہ تعالی کے شکر کا ہر اساس تھا کہ اس نے مجھے ایک ایسے امرکے سمجھنے کا محض اپنے فضل سے فہم عطا فرمایا جسے میں مشکل گردانتا تھا۔وائسراے کی کونسل کے اجلاس کے لئے وائسہ لیگل لاح حاضر ہوا۔دستور یہ تھا کہ اجلاس کے دفنت سے اجلاس میں طریق کار چند منٹ پہلے اراکین کو فن اور کمانڈر انچیف وائسرائے کے اسے ڈی سی کے بڑے کمرے میں جو استقبالیہ کمرہ تھا پہنچ جاتے۔وہاں سے ان کے ہمراہ پہلی منزل پر اجلاس کے کمرے میں جاکر اپنی اپنی نشست پر بیٹھ جاتے۔دو تین منٹ بعد دوسری جانب سے دائر رائے تشریف لے آتے۔لارڈ والنگڈن کے زمانے میں لباس کے متعلق کوئی پابندی نہیں تھی کمانڈر انچیف فوجی وردی میں ہونے اور سولین اراکین دن بھر کے معمولی لباس میں۔لارڈ ولنگڈن آتے ہی اپنے رفقا کے ساتھ بے تکلفی سے دو چار منٹ عام گفتگو فرماتے۔پھر یہ ٹویٹ سیکر یٹری سے دریافت فرماتھے۔امیرک! آج کیا کام ہے ؟ سرایریک میں دائرے کے پرائیویٹ سیکریٹری (جو کمرے کے کونے میں اپنی الگ میز لگائے بیٹھے ہوئے) ایجنڈے میں جو امر غیر اول پر درج ہوتا اس کا نام کے دیتے۔وائسرائے رکن متعلقہ کو ارشاد فرماتے۔اس پر رکن متعلقہ مختصر طور پر معاملہ پیش کرتے۔آٹھ دس منٹ میں باقی اراکین میں سے جو چاہتا اظہار راے کرتا دوس میں سے نو اور پاس اظہار رائے کے دوران ہی میں اتفاق ہو جاتا کہ کیا فیصلہ مناسب ہو گا کسی نہایت اہم معاملے پر یا ایسے معاملے پر جس کے متعلق آخر تک اختلاف قائم رہے رائے شماری کی نوبت آتی۔لارڈ ولنگڈن نخود اپنی طرف سے بہت کم کسی رائے کا اظہار کرتے۔صرف کبھی کبھی کوئی محمد رضاعت کے طور پر فرماتے جس سے فیصلے میں آسانی ہو جاتی ہو فصیلہ بھی ہوتاوہ اسے بشاشت سے انا لیتے۔اس طریق سے اکثر مو بلد بالاتفاق طے پا جاتے جن میں اختلاف قائم رہنا ان کے ی ی ی ی ی یت کی کشیدگی پیدا نہ ہوتی اور نیا منگو کے نے پراس طریق کا میں بہت کچھ تبدیل ہوگئی۔اس کے متعلق ہدایت جاری ہوئی کہ کونسل کے اجلاسوں میں مازینگ سوٹ لازمی لباس ہو گا۔سر جیمز گرگ وزیر خزانہ ایسی پابندیوں کے سخت مخالف تھے اور ضیاع اوقات کو گناہ کبیرہ سمجھتے تھے۔وہ اس بات پر بہت چھین نہیں ہوئے لیکن عمل کئے بغیر چارہ نہیں تھائی ؟ میں جب جنگ شروع ہوئی تو مجھ سے کہا اس فضول ہیم کو بند کریں مں نے کہا کیسے بند جو کہا اگرتم میرے ساتھ اتفاق کرد تو میں پرائیویٹ سیکریٹری سرگرٹ لیتھویٹ سے کہ دوں کہ ہم دونوں کو استقدر معروفیت ہے کہ ہم کونسل کے اجلاس کے لئے لباس پہنے کیلئے وقت نہیں پاتے۔میں نے کہا ضرور کہ دیجیئے۔اس پر یہ ہدات منسوخ ہوگئی۔لیکن کونسل کے اجلاسوں میں وہ بے تکلفی کا ماحول پیدانہ ہوا جو لارڈ ولنگڈن کے زمانے میں ہوتا تھا۔لارڈ لینا تھگو کسی رفیق کار کو اس کے نام سے نہیں پکارتے تھے۔عہدے کا نا لیکر خطاب کرتے تھے طرز خطاب نہات خشک اور دکھی ہوتا تھا ہ رکن پنی باری پر بولتا تھا۔ہر معالے میں رائے شماری ہوتی تھی نتیجہ یہ تھاکہ اکثر معاملات میں اختلاف ہوتا تھا۔لارڈ لیلہ ھو اپنائے شروع میں ظاہر کر دیتے تھے جو اتفاق کا نہیں بلکہ اختلاف کا موجب ہو جاتی تھی۔لالہ ڈولنگڈن نے ایک دفعہ مجھ سے کہا میں نے تواپنے لئے یہ قاعدہ نمونہ کیا ہوا ہے کہ میں متعلق