تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 304 of 736

تحدیث نعمت — Page 304

بهم مهم معاملے میں میرے تینوں ہندوستانی رفقاء متفق ہوں میری رائے ان کی تائید میں ہوگی وہ تینوں یورپین اراکین اور کمانڈر انچیف کی رائے خلاف بھی ہو۔ایسی صورت میں چونکہ ہم چار ایک طرف اور وہ چار دوسری طرف ہوں گے لہندا مرا کاسٹنگ ووٹ فیصلہ کن ہوگا۔میں نے لارڈولنگڈن کو ہمیشہ اس قاعدے کی پابندی کرتے دیکھا۔لیکن بہت کم معاملات میں کاسٹنگ روسٹ کی نوبت آتی کیونکہ یورپین اراکین میں سے ایک دو لارڈ ولنگڈن کے ساتھ ضرور شامل ہوتے۔کمانڈر انچیف سرفلپ سیٹیو ڈان کے ہم مکتب رہے تھے اور دونوں کا آپس میں بہت دوستانہ تھا وہ عام سیاسی یا اتظامی امورمیں بہت کم رائے زنی کرتے تھے۔لیکن جب کچھ کہتے تو بہت کام کی بات کہتے۔اگر دیکھتے کہ کونسل میں والیئے کی رائے سے اختلاف ہوتا ہے تو ان کی تائید کرتے یا کوئی ایسا حل تجویز کرتے جس پر اتفاق ہو جاتا۔لارڈو لنگڈن کے وقت میں طریق کار یہ ہی رہی ان کی شخصیت بھی ایسی تھی کہ کونین کے اجلاسوں میں کام سہولت سے ہوتا۔اس سے بڑھ کر یہ کہ ان کے عہد میں ہندوستانی نقطہ نظر در سند دوستانی امنگوں اور بینا کا بہت زیادہ خیال رکھا جاتا تھا۔لارڈ نیلہ تھگو کے زمانے میں عملاً آئینی قدم تو آگے بڑھا لیکن ہندوستانی جذبات کا اتنا خیال نہیں رکھا جانا اعتبار رولنگڈن رکھتے تھے۔لارڈ ولنگٹن پہلی ہی ملاقات میں ملاقاتی کے دل میں یہ تاثر پیدا کر نے میں کامیاب ہو جاتے تھے کہ انہیں ملاقاتی کا احترام ہے اور اس کے جذبات اور خواہشات کے ساتھ ہمدردی ہے۔لارڈ لیلتھگو کے متعلق ضرور یہ تاثر رہتا تھا کہ خشک مزاج ہیں۔میرے ذاتی تعلقات تو ان کے ساتھ بھی ہمیشہ اچھے رہے اور دائے ہونے کے عرصے میں اور بعد میںبھی ان کا سلوک میرے ساتھ بہت شفقانہ رہا لیکن وہ اپنی طبیعت کے ہاتھوں مجبور تھے۔فرمایا کرتے تھے جہاں دوسرے امور میں سادات ہوئیں اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہ سکتا ہوں کہمیں ہر بار ہندوستانی کو ترجیع دیتا ہوں لیکن ان کی نگاہوں میں دوسرے امور میں مساوات شادی ہوتی تھی۔وائسرائے کی کونسل کے اجلاس میں کونسل کے اجلاس میں شرکت کیلئے وائسر نگل راج پہنچا اپنے رفقاء کے ساتھ میں پہلی مرتبہ شمولیت میری پہلے سے شناسائی تھی۔کمانڈر انچیف صاحب کے ساتھ پہلی بار ملاقات ہوئی ان کے چیف آف سٹاف جنرل سرکن تھے وگرم اس اجلاس میں ان کے ساتھ تھے کیونکہ محکمہ دفاع کے مراسلے کا مسودہ زبیر حبت آنیوالا تھا۔اجلاس شروع ہوتے ہی پہلے میں نے حلف لیا اور پر محکمہ دفاع کے مسودے پر گفتگو شروع ہوئی۔وزیر ہند کی خدمت میں جانے والے مراسلات چونکہ نہایت اہم امور پر شتمل ہوتے تھے اسلئے ان پر بہت توجہ دیجاتی تھی اور پر پیراگران پر علیحدہ علیحدہ غور کیا جاتا تھا۔میر کونسل کے اجلاس میں شامل ہونے کا پہلا تجربہ تھا مسودہ زیر غور کے اکر پراگرافی پہ تو اتفاق رائے سے صادر ہو گیا۔بعض پر اگر اس میں مجھے اصلاح کی ضرورت معلوم ہوتی تھی۔چنانچہ اپنی باری پہ میں ان میں ہ میم کی تجویز پیش کرتا رہا اور منزل دگر سے مشورہ کرنے کے بعد کمانڈر انچیف میری ترمیم کو منظور کرتے رہے۔کونسل کا اعلان ختم ہونے پر میں اللہ تعالی کا شکر کر تے ہوئے واپس آگیا۔