تحدیث نعمت — Page 302
۳۰۲ دلی کے ارباب حل و عقد سے بھی شناسا نہیں، آپ جہاں تک ہو سکے مجھے کام کرنے کے طریق اور حکام سے میل ہوسکے حول کے آداب سے مطلع کر دیں۔انہوں نے کچھ ضروری باتیں اس وقت بتلادیں بعد میں بھی بہت مفید رفیق کار ثابت ہوئے۔ان کے تجربے سے میں نے بہت فائدہ اٹھایا۔شملہ میں میری رہائش ریٹریٹ میں تھی جو میاں صاحب کا سر کاری نبنگلہ تھا۔میاں صاحب اند راہ عنایت اپنا سب ذاتی سامان میرے استعمال کیلئے میری سہ روت کے لئے چھوڑ گئے تھے۔مجھے اس بارے میں کوئی تم نہ کرنا پڑا اور میاں صاحب کی نوانہ ش سے بہت آرام ملا۔فجزاه الله خیرا مکان پر پہنچنے کے چند منٹ بعد خان بہادر صاحب نے بتایا کہ مسٹر ہیڈ جو ان دنوں میاں صامعہ کے محکمہ کے قائمقام سیکر ٹری تھے دریافت کرتے ہیں کہ وہ کس وقت ملاقات کیلئے آئیں اور وہ کہتے ہیں کہ باقی افران محکمہ بھی یہی معلوم کرنا چاہتے ہیں۔میں نے کہا کہہ دیجئے میں کل صبح دس بجے خود دفتر آؤں گا سیکر یٹری صاحب اس وقت میرے کمرے میں تشریف لے آئیں اور پھر میرے ساتھ چلیں، تا کہ میں محکم کے ہرافس نہ پینڈنٹ بانٹ اسسٹنٹ اور کلرک کے مرے میں جاکر ان سے ملوں۔خان مہادر نادر شاہ نے کہا آپ جیسے کہتے ہیں میں ان سے کہے دیتا ہوں لیکن یہ یہاں کا دستور نہیں۔افسروں کا فرض ہے کہ وہ آکر ملیں۔میں نے کہا بیشک یہاں یہی دستور ہو گا لیکن میرا یہ دستور نہیں۔میں باہر سے آیا ہوں وہ یہاں موجود ہیں میرا فرض ہے کہ میں خود جا کر اپنے تعارف کراؤں۔وائس ریے کی کونسل کے اجلاس میں اسی شام والسائے کی کونسل کا اجلاس تھا۔ان ایام میں تیری پہلی مرتبہ شرکت کے لئے تیاری گول میز کانفرنس کی تیاری کے سلسلے میں حکومت ہند کی طرف سے مختلف متعلقہ مائل پر تفصیلی مراسلات در یہ ہند کی خدمت میں بھیجے جارہے تھے۔مراسلے کا مسودہ متعلقہ محکمہ تیار کرتا تھا۔کون میں اس پر غور ہو کر اور اگر کوئی ترمیمات منظور ہوں تو انہیں عمل میں لا کہ مراسلہ لندن بھیج دیا جاتا تھا اس شام کے اجلاس میں محکمہ دفاع کے مراسلے کا مسودہ نہ یہ کب آنا تھا۔مجھے اور دفاع کے متعلق کچھ ھی علم نہیں تھا پریشان ہوا کہ پہلے ہی دن ایک ایسا موضوع زیر غورہ آئیگا حسیں کے متعلق میں کچھ بھی تو نہیں جانتا۔گو یہ ضروری نہیں تاکہ میں بحث میں حصیلی، لیکن یہ تو لازم ناکہ مجوزہ مراسلے کی بن جاریہ کی میں امید کردن ان کے سن و تیج پر مجھے کچھ اطلاع ہو۔میں نے مسودے کا مطالعہ اس دعاء کے ساتھ شروع کیا۔یا اللہ سب علم ہے اور سب قدرت ہے تو اپنے فضل و رحم سے میرے ذہن کو جلا بخش اور میری رہنمائی فرما مسودہ پڑھتے ہوئے میرا میں تاثر یہ تھا کہ حکومت کے مرکزی دفانہ کی کار کردگی بڑے اعلیٰ پیمانے کی ہے کیونکہ مسودہ میں امور متعلقہ کو بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا تھا۔جیسے جیسے میں پڑھتا گیا مجھے کچھ اطمینان ہوتا گیا کہ یہ معاملہ الا من یدہ نہیں جیسے مجھے خدشہ تھا پڑھتے پڑھتے جہاں مجھے خیال ہوتا کہ یہاں اصلاح کی گنجائش ہے میں حاشیے پر پنسل سے خط کھینچ دنیا جب میں ختم کر چکا تو میرے دل مشکل