تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 285 of 736

تحدیث نعمت — Page 285

۲۸۵ ہوتے ہیں ملزمان پہلے تو آزادی کا گیت گاتے پھر کی نہ کی سنجیدہ یا غیر سنجیدہ عذر کی سماعت ہوتی۔بی محل طے پا تو گواہ سلطانی پر جرح جاری ہو جاتی۔گواہ سلطانی نہایت ہوشیار تھا اور اس کا حافظہ بہت صاف تھا طویل اور تفصیلی تجرح بھی اس کے بیان کے کسی حصہ کو کر دریا مشکوکنہ کرسکی۔نو مہینے کی جرح کے عرصے میں اس نے پریشانی کا اظہار کیا نہ ھلکان کا کسی وقت جھنجھلایا نہ ہوش میں آیا ایک ہی پنج پر پورسے سکون سے ہر سوال کا جواب دیتا چلا گیا۔ملزمان چونکہ پڑھے لکھے نوجوان تھے اسلئے جب وہ عدالت کے کمرے میں موجود ہوتے اور عالمی کاروائی نہ ہورہی ہوتی تو کبھی کبھی وہ مجھے اپنے کٹہرے کے پاس بلا لیتے عموما تو انکی عرض کسی تکلیف کا اظہار ہوتی کہ اس کی اصلاح کرادی جائے۔یاکسی سہولت کا مطالبہ ہوتا۔کبھی کبھی وہ کسی عام دلچسپی کے معاملے پر اظہار رائے بھی کرتے۔شروع کیا میں انہوں نے مجھے کہا کہ جیل میں ان کا وقت مشکل سے کھتا ہے۔کوئی مشغلہ نہیں۔میں جو میگنہ بن یا کتاب اپنے پڑھنے کیلئے خرید تا پڑھ کر انہیں دید تھا۔جو جائز سہولت وہ طلب کرتے اس کا انتظام کروا دیا۔حسین تکلیف سے انہیں پریشانی ہوتی وہ رفع کرا دی جاتی۔میرے اس طریق سے چودھری محمد امین صاحب کو پریشانی ہوتی۔فرماتے ملزمان کے ساتھ ایسانہی کا سلوک انہیں اک نے کا موجب ہوتا ہے۔میں نے پوچھا کس بات پر اک نے کا ؟ کہنے لگے وہ کوئی بے جا حرات کہ بیٹھیں تو ؟ میں نے کہا اس کا تدارک ہو سکتا ہے ملزمان ہی تو ہیں نا ؟ ابھی مریم توان کے خلاف ثابت نہیں ہوا۔مجرم ہوتے تو الگ بات تھی۔دوسری گول میز کانفرنس میں شرکت بھی پہلے گوا سلطانی پر جرح جاری تھی کہ مجھے دوسری گول میز کانفرنس میں شمولیت کی دعوت آگئی۔اس اثناء میں گاندھی ارون سمجھوتے کے نتیجے میں کانگریس نے گول میز کانفرنس میں شامل ہونا منظور کر لیاتھا۔اور گاندھی جی کو اپنا وارد دو نامزد کیا تھا۔یہ مرے ہو جانے کے بعد کانگریس کی طرف سے یہ تجویز پیش کی گی کہ ڈاکٹر انصاری صاحب کو بطور ایک مسلمان نمائندے کے کانفرنسیں شمولیت کی دعوت دی جائے۔یہ تجویز مسلمانوں اور کانگریس کے درمیان ایک بڑے زرایع کا باعث بن گئی مسلمانوں کا موقف تھاکہ کانگریس نے کانفرنس میں شامل ہو نا منظور کر لیا ہے۔کانگریس چاہے تو دس بیس مندوبین کا ایک وقد کانفرنس میں شمولیت کیلئے بھیج ہے۔گاندھی جی بیشک اس وند کے رئیس ہوں اور اگر کانگریس چاہے تو باقی تمام مندر بین کانگریس مسلمانوں سے انتخاب کرے جن میں بیشک ڈاکٹر انصاری بھی شامل ہوں چشم ما روشن دل ما شاد یا اگر انگریس کا ایصاریہ ہوکہ کانگریس کے دادا نے گاندھی جی ہوں گے تو گاندھی جی تو ہوئے تما کانگریس کے نمائندے کانگریسی سندوں کے بھی اور کانگریسی مسمانوں کے بھی جن میں ڈاکٹر انصاری صاحب شامل ہیں۔اس صورت میں اگر ڈاکٹر انصاری صاحب بھی نامزد کئے جائیں تو وہ کس کے نمائیندے ہوں گے ؟ اندریں حالات اگر ڈاکٹر انصاری کو نامزد کیا گیاتو مسلمان مندوبین کا نفرنس میں شمولیت سے انکار کردیں گے۔نتیجہ یہ ہوا کہ کانگریس کی یہ خون کامیت