تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 286 of 736

تحدیث نعمت — Page 286

۲۸۶ نہ ہوسکی براس تجویز کی مخالفت میں پیش پیش مولانا شفیع داؤدی صاحب تھے دوسری گول میز کانفرنس کے موقعہ پر لندن میں مرز سروجنی نائیڈ اگرچہ کانفرنس میں شریک نہیں گاندھی جی اور مسلم وفد کے مابین مذاکرات تھی لیکن لندن میں موجود تھیں اور سہندوستان کے آئینی مستقبل میں طبعا گہری دلچسپ رکھتی تھیں یہ جانتے ہوئے کہ اس گھی کا تلی بخش طریق پر سلمان بند مسلم مفاہمت پر موقوف ہے انہوں نے یہ کوشش شروع کی کہ گند می اورمسلمان کے درمیان سمجھنے کی کوئی صورت پیدا ہوجائے نانچہ یہ قرار پایا کہ گاندھی جیسلم وند کے ساتھ تبادلہ خیالات کے لئے ہزہائی نس سر آغا خان کے ہاں ریٹز ہوٹل میں شام کے کھانے کے بعد تشریف لائیں گے مسلم درد کے سب اراکین بروقت گاندھی جی کے نظارمیں پیشم براہ تھے۔روز کھلا اور گاندھی میں تشریف لائے۔تمام حاضرین تعظیم کھڑے ہو گئے۔ہزہائی نو سر آغا خاں نے سب کی طرف سے عظیم المرتبت مہمان کو خوش آمدید کہا۔اور آرام کرسی آپکے بیٹے کیلئے پیش کی گاندھی جی نے انکار میں سرہلایا کرئے اور فرمایا مجھے فرش پر بیٹھنا پسند ہے۔آپکے دائیں ہاتھ میں ساگوان کا ایک خوبصورت کیس تھا جو آپ نے فرش پر اپنے سامنے رکھ لیا اور قالین پر تشریف فرما ہوگئے۔حاضرین میں سے بعض اراکین معزز مہمان کے احترام میں قالین پر میٹھے گئے لیکن سرکے لئے فرش پر بیٹھنے کی گنجائش نہیں تھی اسلئے باقی لوگ کرسیوں اور صوفا پہ سمجھ گئے۔گاندھی جی نے بڑے اطمینان سے اپنا بکس کھولا میں اس انتظارمیں تھا کہ دیکھیں اسمیں سے کیا بر آمد ہوتا ہے۔کیس کھنے پر اس میں سے ایک چھوٹا س بہت خوبصورت چنبیل کا پر نہ نکلا جو نہ کیا ہوا تھا۔گاندھی جی نے اسے احتیاط سے کھول کر فرش پر رکھا اور خاموشی سے پریچہ کا نا شروع کر دیا۔جب دو ایک تاریخ نکال چکے تونگہ اوپر اٹھائی اورمسکراتے ہوئے اشارہ کیا کہ ہم گفتگو پہ آمادہ ہیں۔اس اثناء میں حاضرین کی توجہ تمام تر چرنے پر مرکوز رہی۔مجھے گو جلد سو جانے کی عادت ہے اور میں مہابھی کچھ فاصلے پر تھالیکن یہ موقع بہت اہم تھا بزرگوں کی موجودگی میں مجھے کچھ کہنا تو تھا نہیں لیکن میرے لئے بہت کچھ سیکھنے کا موقعہ تھا اس لئے میں ہمہ تن گوش تھا دو گھنٹے سے زائد گفتگو جاری رہی مسٹر جناح کے پودہ نیاست زیر بحث تھے۔گاندھی جی نے فرمایا ان میں سے بعض مطالبات و نہ صرف میں تسلیم کرتا ہوں بلکہ ان کی تائید میں ہوں مثلاً سندھ کی بیٹی سے علیحدگی اور دوسرے صوبوں کے ساتھ سرحدی صوبے کی آئینی یا ابری ایسے مطالبات ہیں جن سے کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا۔بعض مطالبات ایسے میں جن پر مجھے اعتراض نہیں اگر آپ انہیں ضروری سمجھتے ہیں تو مجھے انہیں قبول کرنے میں کوئی قائل نہیں۔جو مطالب شکل پیش کرتا ہے وہ مجالس قانون سانہ میں نمائندگی کا مسئلہ ہے۔اس کے متعلق پہلی شکل یہ ہے کہ میں نے ہندوستان سے روانہ ہونے سے قبل ڈاکٹر النصاری صاحب سے وعدہ کر لیا تھا کہ میں ہیں مسئلے کے متعلق کوئی فیصلہ ان کی غیر حاضری میں نہیں کروں گا۔اسلئے اس مسئلے پر گفتگو صرف ان کی موجودگی میں ہوسکتی ہے۔اب بحث اس امر پر شروع ہوئی کہ بیشکل مل کیسے ہو۔آخر گاندھی جی نے فرمایا کہ اس کال کوئی ایسا مشکل نہیں آپ صاحبان }