تحدیث نعمت — Page 284
میں ان کے ساتھ شریک ہوتیں۔اللہ تعالی کا بھی ان کے ساتھ خاص سلوک تھا۔میاں بیوی دونوں کو اللہ تعالیٰ کی ذات اور اسکی ستاری غفاری اور قدرت پر کامل بھروسہ اور اعتماد تھا۔اور اللہ تعالیٰ کا سلوک بھی ان کے ساتھ اسی اعتماد اور بھروسے کے مطابق تھا۔میں پاکستان جاتے ہوئے بیروت سے گذرا میاں نسیم حسین صاحب مطار پر تشریف فرما تھے۔دوران گفتگو میں ایک پریشانی کا ذکر فرمایا اور ارشاد فرمایا خاص طور پر دعا کرنا۔میں نے کہا میاں اب ریٹا کا ہی چارہ باقی ہے آپ بھی دعاء کرتے رہیں میں بھی انشاء اللہ کروں گا۔پاکستان سے واپسی پر پھر ملاقات ہوئی۔میں نے اس امر کے متعلق دریافت کیا نہتے ہوئے فرمایا بس وہ معاملہ تو خود بخود ہی صاف ہو گیا اور جیسے ہماری خواہش تھی ویسے ہی طے ہو گیا۔اللہ تعالی نے بڑا فضل کیا۔ان کی صحت کچھ عرصہ سے کمزور میلی اگر ہی تھی طبی مشورے کے لئے لندن تشریف لے گئے اتفاق سے میں بھی ان دنوں لندن میں تھا۔اکثر ملاقات ہوتی رہتی۔بیروت میں ان کی میعاد ختم ہو چکی تھی وہ رخصت پر تھے اور بطور ہائی کمتر مانا جانے کے احکام صادر ہو چکے تھے صحت کے متعلق ڈاکٹروں نے تو اطمینان دلایا لیکن بیروت جانے کے بعد دل پر پھر بیماری کا حمل ہوا لکھا کہ اس حالت میں غانا جانے کے خیال سے پریشانی ہوتی ہے۔میں نے لکھا اللہ تعالیٰ آپ کو پریشان نہیں کرے گا۔آپ کو مانا نہیں جانا ہو گا۔وہ احکام منسوخ ہو گئے ہیں لیکن ساتھ ہی اللہ تعالی کے حضور سے حاضری کا حکم جاری تہرایا ابنتها النفس المطمنة الرجعي إلى ربك راضية مرضية فادخلي في عبادت را دخلی جنتی اور وہ اللہ تعالٰی کا مسکین لیکن نہایت فیر اور راضی به رضا خادم اور بنده لبيك اللهم لبيك لا شريك لك لبيك کہتا ہوا اپنے مولا کے حضور حاضر ہو گیا - يغفر الله له و يجعل الجنة العليا نوره مقدمہ سازش دہلی میں عدالتی کاروائی سازش کے مقدمے کی سماعت شروع ہوئی ابتداء سے ہی عزیان اور ان کے وکلاء کی روش سے ظاہر تھا کہ وہ کاروائی کو طول دینا اپنے لئے مفید سمجھتے ہیں ایک تو مبینہ سانرش کا جالی کافی وسیع تھا اسلئے گواہان استغاثہ کی فہرست بھی تھی۔تین تو سلطانی گواہ تھے۔دوستی اور تیرے گواہ کا بیان تو ایسا لمبا نہیں تھا لیکن پہلے گواہ کا بیان سترہ دن میں ختم ہوا اور اس پر جرح تو تو مہینوں میں جا کر ختم ہوئی۔اس کے علاوہ جب بھی ملزمان مقدمہ کی کاروائی روک دنیا چاہتے تو ان میں سے کوئی ایک پیٹ درد یا سر در دیا کسی ایسے ہی عارضے کا بہانہ بنا کہ عدالت میں حاضر ہونے سے انکار کر دنیا اور کاروائی رک جاتی تب نتوانم یہ پال چلی جانے لگی تو حکومت نے آرڈینینس کے ذریعے اس کی روک تھام کر دی۔ملزمان نے کاروائی کو طول دینے کیلئے اور چالیں سوچ لیں۔کسی نہ کسی عذر لنگ کی نا پیر التوا کی درخواست پیش ہو جاتی اور ٹر میونل کی کثرت رائے سے منظور ہو جاتی۔عملاً دو تہائی وقت کاردانی مقدم مل رہی نتیجہ یہ ہوا کہ ایک سنگین مقدمے کی عدالتی کاروائی ایک کھیل اور تماشہ بن کررہ گئی۔عدالت کے اجلاس کا وقت ملزمان کے لئے تفریح کا وقت ہوتا۔اجلاس شروع