تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 222 of 736

تحدیث نعمت — Page 222

۲۲۲ 14 حضور کی معیت میں وغیس کی سیر | حضور کا قافلہ بذریعہ ڈیل نہیں روانہ ہوا۔وہیں میں قیام کا انتظام میٹرو پول ہوٹل میں تھا جو سینیٹ مارک کے چوک کے قریب نہر کیر کے کنارے واقعہ ہے۔جہانہ کی روانگی میں ابھی دو دن کا وقفہ تھا۔حضور کو یہ دودن فراغت کے میسر آگئے۔موسم خوشگوار تھا سینٹ ماری کا پوک شہر کا مرکز ہے اور ہر لفظ نکتہ درس طبائع کے لئے ان کی فطرت کے مختلف پہلوؤں کی نئی نئی تصویریں میشی کرتا ہے۔پہلی بار جب حضور چوک دیکھنے تشریف لے گئے تو خاک رنے گذارش کی کہ یہ چوک دنیا کا خوبصورت ترین چوک کہا جاتا ہے۔فرمایا یہ تومی نہیں کہ سکتا کیونکہ میںنے دنیا کے تمام چوک نہیں دیکھے البتہ یہ کرسکتا ہوں کہ جو بچوک میں نے دیکھے ہیں ان سب میں سے خوبصورت ترین یہ چوک ہے۔چوک کے ایک طرف ڈور جی کا محل اور سینٹ مارک کا گر جا ہیں۔اور باقی تین طرف دو کا میں اور قہوہ خانے ہیں۔ہر دوکان ایک عجائب گھر معلوم ہوتی ہے۔میں میں شیشے اور میرے اور ریشم ہر قسم کا نہایت نفیس سامان خرید کے لئے ملتا ہے۔حضور نے بہت سی چھوٹی چھوٹی اشیا ء اعزا اور احبا کے لئے مخالف کے طور پر خرید کیں۔بارہ اشخاص کے لئے ایک چائے کا سیٹ حضور کو بہت پسند آیا لیکن حضور نے اپنے لئے خرید نا پسند نہ فرمایا۔خاک سے فرمایا تم خرید لو۔خاک رہنے گذارش کی به چیز خاک ان کی حیثیت سے بہت بڑھ کر ہے۔فرمایا تمہیں اس کی ضرورت پڑتی رہے گی۔خاک در حضور کے فرمان کو تفادل سمجھ کر خریدنے پہ آمادہ تو ہوگیا لیکن پوری قیمت پاس نہیں تھی۔حضور نے فرمایا بقدر ضرورت ہے ہم قرض دیدیتے ہیں۔خاک رکے لئے تعمیل ارشاد میں کسی غدیر کی گنجائش باقی نہ رہ ہیں۔حضور کی معیت میں جہاز کا سفر بہانہ پر حضور اول درجے میں تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب، حضرت حافظ روشن علی صاحب، حضرت نمان ذو الفقار علی شمالی صاحب ، چودھری محمد شریعت صاحب رضى الله عنہم اور خاکار دوسرے درجہ میں تھے۔باقی تمام اصحاب عرشے کے مسافر تھے ان کے لئے اسد وغیرہ وہیں سے خریدی گئی تھی۔باورچی ساتھ تھا اسلئے انہیں کھانے کے متعلق کوئی دقت نہیں تھی۔انہوں نے عرشے کے اپنے حصے پر اپنے لئے خوب آرام دہ انتظام کر لیا تھا۔ہملوگ کھانے یا وضو کیلئے اپنے درجوں میں بجاتے تھے ورنہ سارا وقت عرشے پہ احباب کے ساتھ گزرتا تھا۔وہیں نمازیں ادا ہوتی تھیں۔وہیں حضور کے جلوہ افروز ہونے کے باعث محفل عرفان قائم ہوتی تھی۔تمام سفر کے دوران موسم فضل اللہ خوشگوارہ رہنا - فالحمد لله حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب حضور کے ارشاد کے ماتحت کچھ عرصہ قاہرہ قیام کرنے کیلئے پورٹ سعید سے رخصت ہوئے۔حضور نے بہت دعاؤں کے ساتھ پر نم آنکھوں سے آپ کو رخصت کیا۔بحیرہ قلزم سے گزرتے ہوئے ایک چاندنی رات میں حضور امعہ رفقاء دوسرے درجے کے اوپر کے عرشے پر تشریف فرما تھے کسی خادم کی گذارش یہ ارشاد ہوا کہ حاضرین مجلس میں سے ہر ایک دو بچارہ شعر سنائے۔باقی تمام مدام تو تعمیر