تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 223 of 736

تحدیث نعمت — Page 223

ارشا دئیں کا میاب ہو گئے صرف خاک اریو بعد شدید حجاب کے قاصر رہا۔آخر میں جملہ خدام کی گذارش پر حضور یہ بھی شعر سنانے پر رضامند ہو گئے لیکن ارشاد فرمایا کہ سب احباب قریب ہو جائیں میری آمد از زیادہ فاصلے پرسینی نہ بھجائے گی۔خاک نہ تو پہلے ہی حضور کے دست راست پر بیٹھا تھا باقی احباب سب قریب ہو گئے اور حضوری نے غالب کی غزلی اسے تازہ واردانِ باط ہوائے دل، کچھ ایسے درد انگیز لہجہ مں سنائی کہ سب آنکھیں ہوگئیں۔بمبئی پہنچنے پر خاک حضور سے رخصت حاصل کر کے اسی شام لاہور روانہ ہوگیا۔فیروز پورہ کے باشن پر قبلہ والد صاحب اور سید انعام اللہ شاہ صاحب منتظر تھے وہاں سے لا ہو نہ تک اکھٹے سفر ہوا۔کشمیر کا پہلا سفر نہ کی گرمیوں میں والد صاحب اور والدہ صاحبہ کی خواہش کشمیر جانے کی ہوئی۔چودھری بشیر احمد صاحب ہمارے ساتھ شامل ہو گئے۔پروگرام یہ طے ہوا کہ ہم سب پہلے کوہ مری جائیں۔دو چار دن ٹھہر کر میں واپس لاہور آکر بقیہ کام سے فارغ ہو جاؤں اور پھر کوہ مری واپس آکر ان کے ساتھ شامل ہو جاؤں اور وہاں سے ہم سب کشمیر جائیں۔میری لاہور واپسی کے بعد والد صاحب کی طبیعت ناسازہ ہو گئی۔چودھری بشیر احمد صاحب نے خدمت اور تیمار داری کا حق بڑے اخلاص اور نندھی سے ادا کیا والد صاحب کی کمزوری کے مدنظر یہ ہائش کا ارمینی انتظام بدل کر نیڈی پائنٹ پر نون کا بے کرایہ پر لے لیا گیا۔سپنا نچہ تعطیل کا اثر حصہ ہم نے وہیں گزارا۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل و رحیم سے ہمارا وقت بہت اطمینان اور خوشی میں گذرا۔والد صاحب کی طبیعت بفضل اللہ جلد بحال ہوگئی اور ستمبر کے وسط میں منم عازم کشمیر ہو گئے۔کوہ مری سے ہم دوپہر کے کھانے کے بعد روانہ ہوئے عصر کے وقت ڈو میں پہنچے پر معلوم ہوا کہ آگے پتھر کرنے کی وجہ سے شرک بند ہے اور کاریں بھی رکی ہوئی تھیں۔ہم نے فیصلہ کیا کہ رات ہم مظفر آباد میں بسر کریں۔پل سے پا نہ ہو کہ ہم منظر آباد چلے گئے۔ڈاک بنگلے میں تو گنجائش نہیں تھی لیکن سرائے کی چھت پھر تمہیں جگہ مل گئی۔نانی بائی کی دوکان سے گرم نان اور کباب میسر آگئے جو ہم نے شوق سے کھائے۔رات چاندنی تھی۔سماں بہت سہانا تھا۔رام گنگا کا پانی چاندنی کی طرح چمکتا اپنے سریلے راگ گاتا مہتا چلا جاتا تھا۔صبح ہونے تک سڑک کھل گئی۔ہم سویرے ہی روانہ ہو کہ دس بجے تک سرینگر پہنچ گئے۔مولوی نذیر احمد صاحب کے ہاں قیام ہوا۔وہ اس وقت حکومت کشمیر میں نہ یہ تھے۔ہمارے کوہ مری سے روانہ ہوتے وقت مہاراجہ صاحب کشمیر بیمارہ تھے۔جس دن ہم سر بیگہ پہنچے اسی دن ان کا انتقال ہو گیا اور ان کے ماتم میں سب دنیائیں کاروبار اور سب ادارے بند ہو گئے۔ہم نے ایک ہاؤس بوٹ کر امیہ پر لی اور نیم باغ پہلے گئے۔ہمارا قیام مہفتہ بھر رہا۔اس دوران میں ہم نے خطہ کشمیر کے مختلف مقامات کی سیر کی۔نشاط ، شالا مالہ ، بارون تو جھیل کچھ کے اس پار ہی تھے۔دور کے مقامات تک ہم کالہ پر گئے۔سری نگر کے محلہ خان یا ر میں حضرت میمے کی