تحدیث نعمت — Page 221
۲۲۱ اور بہت سے لوگ کھڑے رہ گئے تھے۔سارا مضمون کامل نخاموشی سے سنا گیا۔ہال میں بالکل سناٹا تھا جب مضمون ختم ہوا توں معین میں سے اکثر کار گی اسٹیج کی طرف لپکے ہر ایک کی کوشش تھی کہ مصالحہ کا شرف حاصل کرے۔خواجہ نذیر احمد صاحب فرزند خواجہ کمال الدین صاحب بھی اسی ہجوم میں شامل تھے۔اللہ تعالیٰ کے فضل و رحم سے مضمون ہر لحاظ سے کامیاب رہا اور بالا اتفاق کا نفرنس میں پڑھے جانے والے مضامین میں سے سب سے اعلی شمار کیا گیا۔حضور نے لندن کے قیام کے دوران لندن کی مسجد کا سنگ بنیاد رکھا جس کی عمارت کی تکمیل پر رسم افتاح کی سعادت شیخ سر عبد القادر صاحب کو حاصل ہوئی۔انگلستان سے واپسی | حضورہ کے واپسی کے سفر پر یہ دانہ ہونے سے چند دن پہلے میں حضور کی اجازت سے ایمسٹرڈیم گیا۔لنڈن سے ایمسٹرڈیم تک کے ایل ایم کی ہوائی سروس تھوڑا عرصہ پہلے شروع ہوئی تھی۔ہمیں نے اسی سروس سے یہ سفر کیا۔ہوائی سفر کا یہ میرا پہلا تجربہ تھا۔پچھوٹا سا جہانہ تھا جس میں فقط پانچ مسافروں کی گنجائش تھی۔نشست کے لئے بید کی کرسیاں تھیں۔تین پچھلی قطاریں اور دو ان کے آگے۔مسافروں اور پائلٹ کے در میان فقط ایک تختے کی اوٹ تھی۔سب کیلئے جہاز کے اندر جانے اور نکلنے کا ایک ہی مشتر کہ دروازہ تھا، پروانہ کوئی زیادہ بلندی پر نہ تھی۔مطلع صاف تھا۔اور نیچے سب کچھ صفائی سے نظر آتا تھا۔لندن سے روانہ ہو کہ جہاز چند منٹ کے لئے رائٹر ڈیم ٹھرا اور تھوڑی دیر بعد ایمسٹرڈیم پہنچے گیا۔تین چار دن بعد چودھری محمد شریف صاحب بھی ایمسٹرڈیم تشریف لے آئے۔ایمسٹر ڈیم سے چودھری صاحب اور میں برسلز گئے۔اور دو دن وہاں ٹھہر کہ پریس میں حضور کے قافلے کے ساتھ شامل ہو گئے۔پیرس میں حضور کا قیام گودانہ کے قریب گرینیڈ ہوٹل میں تھا۔یہاں لندن جیسی مصروفیت تو نہ تھی لیکن یہاں بھی حضور کے وقت کا اکثر حصہ ملاقاتوں میں صرف ہوا۔صرف ایک دن حضور وارسائے کا محل دیکھنے تشریف لے گئے۔خلیفہ تقی الدین صاحب اور ناک "+ ہمراہ تھے۔پیرس کے قیام کے دوران میں حضور نے خاکسار سے فرمایا تم نے تو ہوائی جہاز کا سفر کر لیا اب کوئی ایسا انتظام کرد کہ ہم بھی یہ تجربہ کر سکیں۔خاک رنے گذارش کی کہ حضور کے رفقاء تو یہ منظور نہ کریں گے کہ حضور یہ اس نئی سواری کا تجربہ کریں جس میں ابھی کچھ خطرے کا عنصر بھی ہے۔فرمایا انہیں پہلے نہ بتایا جائے۔خاک رتے عرض کیا بعد یں جب انہیں معلوم ہو گا تو سخاک کر ہادی علامت ہوگا کہ خاک رہنے حضور کو کیوں یہ مشورہ دیا اور خاک رکا کوئی در قابل پذیرائی نہ ہو گا۔ناکارہ کو احساس تھا کہ حضورہ کی خواہش ہے کہ کوئی موقعہ ہوائی سفر کا پیدا ہو جائے لیکن میری اپنی طبعیت یہ ذمہ داری لینے سے گریہ کہتی تھی میرا قیاس ہے کہ حضور میرے تذبذب کو بھانپ گئے اور اصرار نہ فرمایا۔پیرس سے بیٹی کے سفر کے انتظامات کی نگرانی محضور نے میرے سپرد فرمائی اور بفضل اللہ یہ سفر بخیر و خوبی طے ہو گیا۔کوئی امر حضور کے لئے پر یشانی کا باعث نہ ہوا - فالحمد لله