تحدیث نعمت — Page 205
۲۰۵ بھی نکلا ہوا تھا۔یہ ضرب خفیف تھی۔اس مرحلے پر میں نے سردارے کو کھڑا ہونے کو کہا وہ اپنا کمبل جو وہ اور ہے ہوئے تھا چھوڑ کر کھڑا ہو گیا۔چھ فٹ سے لیا قد، چوڑا چکلا سینہ ، وہ قوت اور مردانگی کی تصویر تھا۔ظفر اللہ خان۔ڈاکٹر صا حب آپ اس شخص کو دیکھیں اور اس کلہاڑے کو بھی ملاحظہ کریں اور فرمائیں کہ اگر یہ شخص لڑائی کے دوران میں غصے اور جوش کی حالت میں مقتول کے سرچہ اس کلہاڑے کے ساتھ الٹی یا سیدھی ضرب لگانا تو کیا اس ضرب کی نوعیت اور کیفیت وہی ہوتی ہو مقتول کے ماتھے کی ضرب با سر کی ضریب کی نفی۔سول سر حین صاحب۔اگر یہ شخص اس کلہاڑے کے ساتھ مقتول کے سر سپہ ذرا سی طاقت سے بھی ضرب رسید کرتا تو ضرب کے مقام کی ہڈی بالکل چور ہو کر ریزہ ریزہ ہو جاتی۔مقتول کے سر کی ضرب سلمی اور خفیف تھی ما تھے کی شدید تھی لیکن بڑی صاف پھٹی ہوئی تھی۔ان دونوں عزبات میں سے کوئی مزب اس کلہاڑے سے لگی ہوئی نہیں۔زبانی شہادت سے بھی مترشح ہوتا تھا کہ سردا را واردات میں شامل نہیں تھا۔جب بحث کی نوبت آئی تو میں نے جج صاحب کی خدمت میں گزارش کی کہ سول سرجن صاحب کی شہادت انگریزی میں ہوئی ہے۔مناسب ہوگا کہ ان کے بیان کا اور دور نتیجہ میر صاحبان کو سنا دیا جائے۔جج صاحب نے ریڈر کو ایث دو فرمایا کہ سول سرعین کے بیان کا اردو ترجمہ پڑھ کر سنا دیں۔ریڈر صاحب نے اردو بیان پڑھنا شروع کیا لیکن اس میں بھی طبی اصطلا میں انگریزی میں درج تھیں ابھی ریڈ کہ نے تین چار سطرس کی پڑھی تھیں کہ جج صاحب نے انہیں روک دیا۔چ صاحب۔امیر صاحبان سول سرجن صاحب کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ سردارا ملزم نے اس کلہا ہے کے ساتھ مقتول کو نہیں مارا۔سرکاری وکیل صاحب اور میں جب اپنی تقریریں ختم کر چکے تو جہ صاحب نے اسیر صاحبان سے یوں خطا نے بیا اسیر صاحبان ہمارا قاعدہ ہے کہ بحث نختم ہونے کے بعد ہم واقعات اور قانون پر مختصر سا خطاب اسیر صاحبان سے کرتے ہیں۔جس سے انہیں اپنی رائے قائم کرنے میں مدد ملے۔لیکن اس مقدمے میں ابھی ابھی جو تقریہ عزیزیان کی طرف سے وکیل صفائی نے کی ہے وہ اتنی واضح اور اتنی بے رود رعایت ہے کہ اب ہمارے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔اب آپ اپنی اپنی رائے بیان کریں۔اسیر صاحب نمبرا - جناب عالی شہادت استغاثہ اور ڈاکٹری شہادت سے معلوم ہوتا ہے کہ سردا را تو دارہ رات میں شامل نہیں تھا۔سیشن جج صاحب - اور خوشیا ؟