تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 204 of 736

تحدیث نعمت — Page 204

- ۲۰۴ 34 2 کے مطالعہ کے دوران میں نوٹ کیا تھا کہ مقتول کی موت کا سبب ایک سونٹے کی ضرب تھی جو اس کے ماتھے پر لگی جس سے اس کے دماغ کے گرد کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔شہادت استغاثہ میں بالاتفاق نہ وہ اس بات پر دیا گیا تھا کہ سردارا نے مقتول کے سر کے وسط میں ایک خوفناک بھاری کلہاڑے سے ضربات رسید کی تھیں۔مقتول کے سر کے وسط میں ایک ضرب تیز دھار والے آلہ کی بھی تھی جس سے چند قطرے خون کے بھی نکلے تھے لیکن یہ ضرب محض سلمی تھی اور خفیف تھی۔اجلاس شروع ہوتے ہی میں نے درخواست پیش کی کہ سول سرجن صاحب کو مزید یجمہح کے لئے طلب کیا جائے۔سرکاری وکیل صاحب۔سول سرجن کی شہادت مجسٹریٹ کی عدالت میں ہوئی وہاں مجروح ہو چکی ان کا وہ بیان ضابطہ فوجداری کے مطابق مشین کی مثل پہ لایا گیا ہے کوئی وجہ نہیں کہ انہیں دوبارہ طلب کیا بجائے۔سیشن جج صاحب۔سینیٹے صاحب - ہمارا اختیار سول سرعین کو طلب کرنے کا ہے یا نہیں ؟ سرکاری وکیل صاحب۔بیشک آپ کا اختیار ہے لیکن آپ اختیا یہ اصول کی بنا پر استعمال کریں گے اور یہاں کوئی اصولی بات پیش نہیں کی گئی۔سیشن بج صاحب - وکیل صفائی سولی سرعین کے بیان کی وضاحت چاہتے ہیں۔ر ریڈر سے مخاطب ہو کہ ، سول سرجن کو سرسوں کے لئے بلالو۔سردا را قوی ہیکل جوان تھا اور گاؤں میں اپنے گروہ کا سرغنہ تھا۔لیکن یہ حقیقت تھی کہ وہ اس دواراتا کے وقت موقعہ پر موجود نہیں تھا۔اس لئے استفانے کی طرف سے اسے پھانسنے کے لئے قتل کی زیادہ تر ذمہ داری اس پر ڈالنے کی کوشش کی گئی تھی۔جب سول سرمین صاحب حاضر ہوئے تو میں نے ان سے سوال کیا مقتول کی موت کسی ضرب کے نتیجے میں واقعہ ہوئی ؟ سول سرجن صاحب۔ماتھے کی ضرب سے۔۔ظفر اللہ خاں۔اس ضرب کی کیا لو زعیت تھی ؟ سول سرمین صاحب۔یہ ضرب کسی کند آئے سے لگائی گئی تھی۔اس کے نتیجے میں ماتھے کے اندر کی ہڈی پھٹ گئی تھی جس کے نتیجے میں موت واقعہ ہوئی۔ظفر اللہ خاں۔کیا مفتوں کے سر پہ کوئی مضرب تیز دھار والے آلے کی بھی تھی کہ اگر منفی تو اس کی نوعیت کیا تھی ؟ سول سرجن۔ایک ایسی ضرب بھی جو سطحی ملتی اور جلد سے نیچے نہیں گئی تھی جلد کے پھٹنے سے کچھ خون