تحدیث نعمت — Page 4
کے اضلاع میں بھی لوگ ان کا نام عزت و احترام کے ساتھ لیا کرتے تھے۔حکام کے ساتھ ان کا برتاؤ تواضع لیکن فرقانہ کا ہوا کرتا تھا۔اور حکام بھی ان کا احترام کرتے تھے۔انہیں اس زمانہ میں جب حجانہ کا سفر نہایت دشوار ہوتا تھا ج کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔میری پیدائش میں ہر ضروری تالیہ کوسیالکوٹ میں پیدا ہوا۔میری پیدائش سے پہلے میرے والدین کے تین چار بچے کم عمری میں فوت ہو چکے تھے۔شاید یہ بھی ایک وجہ تھی کہ میری والدہ مجھے بہت عزیز رکھتی تھیں۔میرے والد چودھری نصر اللہ خعلی صاحبہ اس وقت سیالکوٹ میں وکالت کرتے تھے میری پیدائش کے وقت میرے والدین کی عمر تیس سال کو پہنچ چکی تھی۔میرے نبھال کا خاندان نسبتا خوش حال تھا۔لیکن میرے والد صاحب نے اپنی طالب علمی کا زمانہ بہت تگی میں گذارا تھا۔میری پیدائش سے دو تین سال قبل بفضل تعالیٰ فراخی اور کشائش کا دورہ شہر جمع ہو چکا تھا۔ابتدائی تعلیم میری والدہ بتاتی تھیں کہ میں چار سال چار مہینے اور چار دن کا تھا جب مجھے مدرسہ میں داخل کرایا گیا۔پہلے پھر سال میں نے میونسپل بور ڈ سکول میں تعلیم حاصل کی۔ساتویں سال میں میرے والد صاحب نے مجھے امریکن مشن ہائی سکول میں داخل کرا دیا۔اس تبدیلی کی غالباً ایک وجہ یہ تھی کہ اس وقت تک میرے والد صاحب کو سلسلہ احمدیہ کی نسبت حسن ظن پیدا ہو چکا تھا۔اور امرک مشن سکول میں اس وقت تین چارہ اساتذہ احمدی تھے۔آشوب چشم کا عارضہ مدرسے کی تبدیلی کے جلد بعد مجھے آشوب چشم کا عارضہ لاحق ہو گیا اور تکلیف اتنی بڑھ گئی کہ ہر سال گرمیوں کا اکثر حصہ مجھے اندھیرے کمرے میں گزارنا پڑتا تھا۔یہ عارضہ میرے لئے تو باش الم تھا ہی لیکن میری والدہ کیلئے مجھ سے بھی بڑھ کر تکلیف دہ تھا۔میرا جتنا وقت اندھیرے کمرے میں گذرتا اس کا اکثر حصہ وہ بھی میرے ساتھ وہیں گزارتی تھیں۔اس رفاقت نے ہمارے دلوں میں پیوند محبت کو اور بھی منٹو کر دیا۔یہاں تک کہ ان کے آخری دم تک میری جدائی ان کے لئے سخت کرب اور بے چینی کا موجب بن جاتی تھی اور ان کی جدائی میں میرے دل کی کیفیت بھی ویسی ہی ہوتی تھی۔میرے والد صاحب کو بھی میرے ساتھ بہت محبت تھی۔لیکن ان کی طبیعت بہت سنجیدہ تھی اور وہ اپنے جذبات کو بہت کم ظاہر ہونے دیتے تھے۔ان کے مجھ پر لا انتہا احسانات ہیں اور انہوں نے میری خاطر بہت قربانیاں کیں۔جزاهم الله في الدارين خيراً يغفر الله لهما و يجعل الجنة العليا شواهماً والدین کا دین کی طرف رجحان میری والدہ کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل ورحم سے سچے خوابوں اور یہ یوں اور سلسلہ احمدیہ میں بیعت سے نوازتا تھا۔بہت سا حصہ ان کی روحانی تربیت کا خوابوں کے