تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 5 of 736

تحدیث نعمت — Page 5

پر ذریعے عمل میں آیا۔انہیں شروع سے ہی دعا پر بہت اعتماد تھا۔اور اللہ تعالیٰ ان کی دعاؤں کو شرف قبولیت بخشا تھا۔ان کی وجہ سے ہمارے گھر میں روحانی اقدار ک اکثر ذکر نہا تھا۔اس ذریعے سے میں نے ان سے بہت کچھ پایا۔اور بہت کچھ سیکھا۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعیت بھی اپنے خوابوں کی بنا پہ کی در ایسے وقت میں کی جب میرے والد صاحب سلسلہ کی طرف مائل تو ہوچکے تھے لیکن ابھی بیعت کرنے کا فیھا۔نہیں کر پائے تھے۔والدہ صاحبہ کے بعیت کرنے کے چند دن بعد انہوں نے بھی بیعت کر لی۔یہ وہ دن تھے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام آخیر ستمبر در شروع اکتو بر کشادہ میں سیالکوٹ میں حلوہ افروز تھے۔والدہ صاحبہ کی بعیت کے وقت میں ان کے ہمراہ تھا۔اور والد صاحب کی بعیت کے وقت بھی میں موجود تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ، مجھے حضور علیہ السلام کی زیارت کی سعادت پہلی مرتبہ سورستمبر یر کی زیارت سے مشرف ہونا سخنشہ کو نصیب ہوئی تھی۔جس دن حضور کی موجودگی میں حضور کا لیکچر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لاہور میلا نام کے منڈو نے میں پڑھ کر سنایا تھا اس موقعہ پر میرے والد صاحب لیکچر سنے کیلئے سیالکوٹ سے لاہور گئے تھے۔اور میری خوش نعیمی سے مجھے بھی ساتھ سیگئے تھے۔میری نشست پلیٹ فارم پر حضور کے قدموں کے قریب ہی تھی۔اور میں سارا وقت حضور کے مبارک چہرے پریکٹکی لگائے رہا تھا مجھے اس دن سے حضور کے جملہ دعاوی پریختہ ایمان اور حضور کے دعاوی کی نسبت کبھی کسی قسم کی الجھن میرے دل میں پیدا نہیں ہوئی۔فالحمد للہ علی ذالک حضور کے قیام سیالکوٹ کے دوران میں مجھے کئی بار حضور کی زیارت کی سعادت حاصل ہوئی۔اپنی دونوں مجھے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ المس الخشانی المصلح الموعود کی زیارت بھی پہلی بانہ نصیب ہوئی۔امریکن مشن سکول ( امریکن مشن سکول حسب اساتذہ میرے ساتھ شفقت سے پیش آتے تھے۔جب میں نویں سیالکوٹ میں تعلیم جماعت میں داخل ہوا تو ریاضی سانی اور ان کے استاد بار غلام محمد صاحب مرحوم تھے سکول کے سب طلبا ان سے بہت ڈرتے تھے کیونکہ ان کی طبیعت سخت گیر تھی۔میری تعلیم کی طرف وہ خاص توجہ دیتے اور میری حوصلہ افزائی بھی فرماتے تھے۔اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے آمین۔ان کے اکلوتے صاحبزادے عبد الحمید بٹ صاحب میرے ہم جماعت تھے۔لیکن آٹھویں جماعت میں وہ لمبا عرصہ ہمارہ ہے اور ان کے والد صاحب نے خود ہی انہیں ایک سال کیلئے اسی جماعت میں روک لیا اور اس طرح وہ مجھ سے ایک سال پیچھے رہ گئے۔جب میریکولیشن امتحان کے لئے داخلہ بھیجنے کا وقت قریب آیا تو میرے والد صاحب نے