تحدیث نعمت — Page 198
14A مدعیان نے اس شرط پر دعوئی واپس لے لیا کہ خرچے کا بار ان پر نہ ڈالا بھجائے۔اسی سلسلے میں چند سال بعد سابق ریاست بہاولپور میں ایک مقدمہ ہوا جس میں شوہر کے سلسلہ احمدیہ میں بیعت ہونے پر اس کے ارتداد اور تنسیخ نکاح کا سوال اٹھایا گیا۔ابتدائی عدالت سے لیکر عدالت عالیہ ریاست بہاولپور تک متفقہ طور پر قرار دیا گیا کہ مطابق فیصلہ جات پٹنہ ہائی کورٹ و مدراس ہائی کورٹ جماعت احمدیہ کے فراد مسلمان نہیں اور دعوئی خارج ہوا۔مدعیہ کی طرف سے وزیر اعظم تعان بہادر نبی بخش مرمین صاحب کی خدمت میں درخواست نظرثانی گذاری گی۔وزیرا عظم صاحب نے حکم صادر فرمایا کہ ریاست کی عدالتیں بر طانوی ہند کی عدا لیتے عالیہ کے فیصلوں کی پابند نہیں ہیں۔یہ مسئلہ شرعی ہے۔ریاست کی عدالتوں کو شریعیت کے اصولوں کے مطابق اس کا فیصلہ کرنا چاہئے۔فیصلہ زیر نظر منسوخ کیا جاتا ہے اور ہدایت کی جاتی ہے کہ ڈسٹرکٹ ج کی عدالت میں اس قضیے کی اند سر نو سماعت ہو۔چنانچہ محمد اکبر خان صاحب ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں مقدمے کی از سر نو سماعت شروع ہوئی۔فریقین کی طرف سے تمام مسائل متنازعہ فیہا پر شہادت شریعی ہوئی اور مقدمہ ایک مذہبی معرکے کی شکل اختیار کر گیا۔حفظ امن کی غرض سے عدالت کے اندر اور با ہر پولیس کا پہرہ مقرر ہوا۔مدعا علیہ شوہر کی طرف سے میرے چھوٹے بھائی پچودھری اسد اللہ خان صاحب بیرسٹر پیرو کار تھے۔علمائے سلسلہ احمدیہ کی شہادت سلسلہ کے عقائد کے متعلق ہوئی۔ایسے مسائل پر شہادت بھی بحث کا نہنگ پکڑ جاتی ہے۔شہادت کے دوران میں ہی عدالت کے اندر تو دو کا نسٹیل سپره پر مقرر تھے ان میں سے ایک نے سلسلہ احمدیہ میں بیعت کرلی ! ایک مرحلہ پر مدعیہ کے ایک گواہ پر جموح کے دوران میں چودھری اسد اللہ نامی صاحب نے ایک سوال کیا جس پر ڈسٹرکٹ جج صاحب نے قلم ہاتھ سے لکھ دیا اور فرمایا اس سوال کا جواب تو ہم مسل پر ثبت نہیں کریں گے اس سے تو اعلیٰ حضرت والی ریاست کی مہک ہوتی ہے اور ہم یہ جرأت نہیں کر سکتے کہ ایسی کو ئی بات مسل پر آنے دیں۔عزیزم اسد اللہ تعالی نے گذارش کی کہ جواب سے تو صرف یہ ظاہر ہو گا کہ مدعیہ کا ادعا بالکل باطل ہے اور گواہ کا موقف غلط ہے۔اعلیٰ حضرت کی ذات پہ تو کوئی مصرف نہیں آتا لیکن ڈسٹرکٹ حج صاحب مصرہ ہے کہ وہ بخواب مسل پر ثبت نہیں فرمائیں گے۔اس گواہ نے بیان کیا تھا کہ جماعت احمدیہ کے افراد کا فر ہیں لہذا ایک مسلمان خاتون کا نکاح احمدی کے ساتھ نہیں ہو سکتا اور اگر کوئی مسلمان خاتون احمدی کی زوجیت میں آئے تو وہ زنا کی مرتکب ہوگی۔چودھری اسد اللہ خان صاحب نے گواہ سے دریافت کیا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ اعلی حضرت والی بہاولپور کی پھوپھی بیگم صاحبہ محترمہ مرحومہ کا نکاح خان عبد الحمید خان صاحب فرزه مذاکبر خان بہادر خان عبدالغفور خالی صاحب خان آف زیدہ کے ساتھ ہوا تھا اور اس نکاح سے بفضل الله