تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 199 of 736

تحدیث نعمت — Page 199

١٩٩ اولاد بھی ہوئی ہو حین حیات ہے ؟ گواہ نے اثبات میں جواب دیا۔چودھری الہ اللہ تعالی صاحب نے پو چھا کیا آپ کو معلوم ہے کہ خان عبد الحمید خان صاحب بوقت نکاح احمدی تھے اور اب تک بفضل اللہ جماعت احمدیہ کے مخلص رکن ہیں ؟ اس پر جناب ڈسٹرکٹ بیج صاحب نے فرمایا ہم ان سوالوں کا جواب ہرگز قلمبند نہیں کریں گے یہ تو اعلیٰ حضرت کی توہین ہے۔چودھری اسد اللہ خاں صاحب نے عرض کیا کہ سوال کی غرض تو یہ ثابت کرتا ہے بستہ ہائی کورٹ اور مدیر اس ہائی کورٹ کے فیصلے تو الگ رہے۔خود اعلیٰ حضرت اور آپ کے مشیر علمائے کرام کا فیصلہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے افراد پکے مسلمان ہیں ورنہ یہ رشتہ کیسے طے پاتا ؟ رجح صاحب تو ان سوالوں کا جواب سل پر تحریر کرنے میں اعلیٰ حضرت کی بینک تصور کرتے تھے در حالیکہ اعلی حضرت کی مہک یہ قرار دینے یا تصور کرنے میں ہوتی کہ آپ ایک خلاف شریعیت فعل کے مرتکب ہوئے ! ضلع کی عدالتوں میں وکالت کے کام کو میں نے اپنی طبیعت کے موافق نہ پایا جب میں نے انڈین کیز میں کام شروع کیا تو اس وقت میری طبعیت پر کٹیں سے کچھ اکتائی ہوئی تھی۔چودھری شہاب الدین صاحب سے ہو خط و کتابت ہوئی اس میں میں ملحوظ تھا کہ جب تک میں انڈین کیسز میں کام کروں گا عدالتی کام کام نہیں کروں گا۔لیکن لاہور پہنچنے کے بعد آہستہ آہستہ میں عدالتی کام کی طرف کھچتا چلا گیا۔• " اس تبدیلی میں سب سے بڑا حصہ تو حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا تھا۔حضور نے بھا کار سے یہ تو نہیں فرمایا کہ تم پریکٹس کی طرف توجہ کر دیا زیادہ توجہ کر لیکن حضورہ کا اعتمادہ خاک رکے لئے بہت ہمت افزائی کا موجب ہوا۔ابھی میں نے کسی ہائی کورٹ میں حاضری نہیں دی تھی کہ حضور نے پٹنہ ہائی کویر میں ایک نہایت اہم اپیل کی پیروی خاک رہ کے سپرد کی۔پھر امرتسر کے کیس میں پیروی کا ارشاد فرمایا التی اس کیس کا فیصلہ بفضل خدا جماعت کے حق میں ہو گیا تو امرتسر کے ایک دوست نے حضورہ کی خدمت میں کہیں کا ذکر کرتے ہوئے گذارش کی کہ ظفر اللہ اپنے خرچ پر پیروی کے لئے لا ہو یہ سے امر سنہ آتا رہتا ہے۔جماعت امرتسر نے فیصلہ کیا ہے کہ اسے سفر خرچ کے طور پر ایک مناسب رقم پیش کی جائے۔حضور نے فرمایا یہ مناسب نہیں اس طرح قوم کی خاطر قربانی کرنے کی روح ماری جاتی ہے ) ایک ذاتی مقدمہ کی پرودی کا ارشاد بھی خاک ر کو فرمایا اگر چہ احباب کا مشورہ تھا کہ میاں محمد شفیع صاحب یا مسٹر یمین کو وکیل کیا جائے۔بعد میں مدراس ہائی کورٹ میں نگرانی کی پیروی کا ارث د فرمایا۔چودھری شہاب الدین صاحب نے بھی حو صلہ افزائی فرمائی۔اول تو شروع میں خود ہی بجوینیہ فرمائی کہ میں ہر ہفتے میں تین دن والد صاحب کی سہولت کے لئے سیالکوٹ چلا جایا کروں پھر خود ہی فرمایا میں نہیں چاہتا کہ تم انڈین کینیر ہی کے حوکم رہ جائہ عدالت کا کام ملے تو لے لیا کرو۔عدالتی کام میں جب میرا زیادہ وقت صرف ہونے لگا تو ان کی