تحدیث نعمت — Page 197
194 پمپ لگایا گیا ستارے بنائے گئے۔وضو خانہ اور ڈیوڑھی کی تعمیر کی گئی۔کولہو والی کوٹھریوں کی جگہ اور ان کے سامنے کی کھلی جگہ پر مہمان خانہ تعمیر کیا گیا اور بعد میں مدرسہ النبات کی عادت تعمیر ہوئی پھیلی میسر آنے پر مسجد اور متعلقہ عمارات میں بجلی کی روشنی اور سنکھوں کا انتظام ہوا۔ان تمام امور کے متعلق بلدیہ کے دفتر میں مناسب اند را بجات اجازت طلبی اور اجازت دہی کے ہوتے رہنے بجلی کے مطالبات کی ادائیگی کی رسیدیں ی جاتی ہیں حضرت مولوی فیض الدین صاحب کے حسین حیات میں تو کسی قسم کا لفرضن جماعت کے ساتھ نہ ہوا۔مولوی صاحب کی وفات کے کچھ عرصہ بعد لاء میں مخالفین نے جماعت احمدیہ کے اندرونی مسجد میں نمانہ ہیں ادا کرنے میں مزاحمت شروع کی اور آخر ایک درخواست زیر دفعہ ۱۴۵ ضابطہ فوجداری دائر کر دی کہ مسجد کے ساتھ جماعت احمدیہ کا کسی وقت کوئی تعلق نہیں رہا۔مولوی فیض الدین صاحب کے سلسلہ احمدیہ میں بیعت ہونے کے دن سے لیکر مسجد پر درخواست کنندگان کا قبضہ رہا ہے اور وہی مسجد کو نمازوں اور دیگر دینی اغراض کیلئے متواتر استعمال کرتے پہلے آئے ہیں۔چند مفتوں سے جماعت احمدیہ کے افراد نا جائز طور پر مسجد پر قابض ہونے کی کوشش کر ر ہے ہیں۔اور در خواست کنندگان اور ان کے رفقاء کی عبادات میں مخل ہوتے ہیں۔لہذا نہ میر دفعہ ۱۲۵ ضابطہ فوجداری درخواست کنندگان کے قبضے کی تصدیق کی جائے اور مسئول علیہم کو حکم دیا جائے کہ وہ اوران کے رفقاء اس میں مخل نہ ہوں۔یہ درخواست سرسری کا روائی کے بعد خارج ہوگئی اور درخواست کنندگان کو بدات ہوئی کہ وہ عدالت دیوانی میں اپنے حقوق کے اثبات کے لئے چارہ جوئی کریں۔چنانچہ ان کی طرف سے دیوانی چھوٹی دائرہ ہوا اور مجھے جماعت کی طرف سے پیروی کا ارشاد ہوا۔اس مقدمے میں کوئی قانونی سوال زیر بحث نہیں تھا۔واقعات ہی نہ یہ بحث تھے۔لیکن تنازعہ فرضی تھا۔شہر کا بچہ بچہ جانتا تھا کہ اصل واقعات کیا ہیں۔جماعت احمدیہ کی طرف سے بائیس سال کے لمبے عرصے میں کئی بار مسجد میں جلسے ہوتے رہے تھے۔معین میں غیر مسلم اصحاب بھی شریک ہوتے رہے۔خود مدعیان اور ان کے گواہ بیرون عدالت تسلیم کرتے تھے کہ مسجد پر شاہ سے جماعت احمدیہ کا قبضہ چلا آتا ہے۔مقدمے کی سماعت پنڈت اون کار نا تھے نہ قشی صاحب سنیٹر سب بج کر رہے تھے۔جب گواہ کے بعد گواہ پیش ہوتا اور اول سے آخر تک فرضی کہانی بیان کرتا چلا جاتا اور سنجیدگی سے محض اپنے تخیل سے فرضی واقعات کا طوالہ کھڑا کر دیتا تو سب جج صاحب اپنا حیرت کے اظہار کو نہ روک سکتے۔گواہان میں سے اکثر کو میں خواتی طور پر جانتا تھا۔عدالت سے باہر جب میں ان کی دروغ بیانی پر تعجب کا اظہار کرتا تو وہ بغیر کسی پشیمانی کے سہنس کر کہ دیتے صاحب یہ جھوٹ تھوڑا ہے۔یہ تو باطل کے مقابلے میں حق کو سر بلند کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔یہ تو ثواب کا کام ہے ہم اپنے ذاتی فائدے کے لئے تھوڑے الیسا کر رہے ہیں۔آخر جب عدالت سے باہر بار روم میں اور دیگر مجلسوں میں ان کی اس حرکت پر نفرین ہونے لگی اور غیر از جماعت معززین نے بھی مدعیان کو ملامت کرنا شروع کیا تو