تحدیث نعمت — Page 178
1LA ایک تو مجھے شیخ عبدالرحیم صاحب کی حرکت ناپسند تھی کہ انہوں نے اپنے والد صاحب کے دوستانہ تعات کا ہومتری صاحبان کے ساتھ تھے پاس نہ کیا اور محض اپنے اصراف کی خاطر دو کانات سیدانہ تارا سنگھ کے حوالے کر دیں۔سردانہ تارا سنگھ نے حق مرتہنی صرف اس نیت سے خرید کیا تھا کہ مستری صاحبان کو دق کر کے ان سے کوئی بڑی لہر تم وصول کریں۔مستری صاحبان اس مشکل میں تھے کہ اگر دو کانہیں ان کے ہاتھ سے نکل جاتیں تو ان کے رہائشی مکان کا صحن غائب ہو جانا اور اس سے متعلق تمام سہولت اور آپ کش ختم ہو جاتی۔اگر مردانہ تارا سنگھ دوکانوں کو گرا کر دو منزلہ یا سہ منزلہ عمارت ان کی جگہ کھڑا کر دیتے تو متری صاحبان کا رہائشی مکان قابل به مائش نہ رہتا۔مستری صاحبان بے بس تھے۔اس مشکل سے رہائی کی ان کے لئے قانونی صورت کوئی نہیں تھی۔سردانہ تارا سنگھ نے انہیں وق کرنے کے لئے جو راستہ اختیار کیا اسی سے اللہ تعالٰی نے مستری صاحبان کی مخلصی کا راستہ نکال دیا۔سرد از تارا سنگھ جب اجرائے ڈگری میں دوکانوں کا دخل لے سکے تو انہیں کسی مزید قانونی کاروائی کی ضرورت نہیں تھی اگر وہ دوکانوں کے اوپر عمارت بنانے کے لئے نقشہ تیارہ کر دراتے اور بلدیہ سے اجازت طلب کرتے تو مستری صاحبان کو درد کانوں کی چھت پر حق آپ کش ثابت کرنے کیلئے عدالت کی طرف رجوع کرنا پڑتا اور ان کے لئے یہ مرحلہ بہت دشوار ثابت ہوتا۔لیکن سردانہ صاحب نے منتری صاحبان کو دق کرنے کی نیت سے ابتدائے ڈگری کی کاروائی کو دوبارہ حجامہ کی کرنے کی کوشش کی اور اپنے رستے میں تقود مشکلات پیدا کر لیں۔چیف کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں سردا نہ تارا سنگھ صاحب کی ناواجب کاروائیوں کا سد باب ہو گیا اور آخر انہوں نے جو قیمت شیخ عبد الرحیم صاحب کو ادا کی تھی مستری صاحبان سے وصول کر کے دوکانیں ان کے نام منتقل کر دیں۔جس دن چیف کورٹ میں اپیل کی سماعت ہوئی والدہ صاحب بھی اتفاق سے لاہور میں تشریف فرما تھے۔عدالت سے واپسی پر جناب مستری غلام حسین صاحب نے چاہا کہ شام کے کھانے کی دعوت ان کی طرف سے قبول کی بجائے۔وہ میرے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے اور مہمان کی طرف سے میزبان اور اس کے دیگر مہمانوں کی دعوت مجھے کچھ تکلف محسوس ہوا اور میں نے انہیں ٹال دیا۔پھر انہوں نے ہم سب کو سینما دیکھنے کی دعوت دی۔ہمارے مکان کے قریب ہی ایک بہت بڑی تھیٹر کی عمارت تھی جس میں سینما کی تصویر میں دکھائی جاتی تھیں۔احمد یہ جماعت کو سینما دیکھنے کی ابھی مانعت نہیں ہوئی تھی۔لیکن والد صاحب نے فرمایا مجھے سنیا کے ساتھ کوئی رغبت نہیں۔مستری صاحب کی دونوں " نجا دینیہ پر عمل نہ ہو سکا۔والد صاحب نے فرمایا بجائے سینما دیکھنے کے شاہی مسجد کے جنوبی طرف والے