تحدیث نعمت — Page 177
144 سپرد کی۔میں نے عذر داخل کیا کہ چھت اور دوکانیں علیحدہ علیحدہ نہیں دوکانوں کے دخل کی ڈگری ہوئی اس ڈگری کے ابتدائی میں دوکانوں کا دخل دلایا گیا اور سیلف نے رپورٹ کی کہ اسٹریٹی مکمل ہو چکی ہے اس پر عدالت نے تکمیل اجرائی کی تصدیق کر کے مثل داخل دفتر کر دی۔اگر ڈگری والہ کو اس حکم کہا عتراض تھا تو اس حکم کی نظر ثانی کی درخواست کرتا یا اس کے خلاف اپیل کرتا۔اہل کی میعاد گذر جانے پر یہ حکم قطعی ہو گیا اب اجرائی ڈگری کے متعلق کوئی مزید کاروائی نہیں ہوسکتی دیوان سیتا رام صاحب نے عدیہ منظور کیا اور درخواست خارج کردی۔اس پر سردار صاحب نے نیاد عومی چھت کا دخل حاصل کرنے کیلئے دائر کر دیا اور ساتھ ہی حکم امتناہی حاصل کرینے کی در خواست دی کہ مدعا علیہ کو چھت کے استعمال سے روک دیا جائے۔مدعا علیہم کی طرف سے اس کی پیروی بھی والد صاحب نے میرے سپرد کی۔میں نے جواب دعوی میں عذر کیا کہ چھت دوکانوں سے الگ نہیں چھت کا دخل حاصل کرنے کیلئے علیحدہ دعوئی نہیں ہو سکتا۔آرڈر نمبر ٢ قاعدہ نمبر ضابطہ دیوانی عارض ہے۔یہ عذر قبول ہو کر دعوی خارج ہوا۔سردار صاحب نے ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں اپیل دائر کی۔عدالت ابتدائی کا فیصلہ بحال رہا اور اپیل خارج ہوئی کہ مدعی نے چیف کورٹ میں اپیل کی۔اس دوران میں میں لا ہور جاچکا تھا۔مستری غلام حسین صاحب لاہور تشریف لائے اور اپنی اور اپنے بھائیوں کی طرف سے مجھے وکیل کیا۔میں نے انہیں مشورہ دیا کہ اس مرحلے پہر معاملے کی نزاکت کے پیش نظر ہمیں ایک قابل سنیئر ایڈوکیٹ اپنی طرف سے کھڑا کرنا چاہیئے۔انہوں نے فرمایا میری طرف سے تمہیں پورا اختیار ہے جیسے تم چاہو کرو۔میں میاں سر فضل حسین صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے درخواست کی کہ وہ مسئول علیہم کی طرف سے سیر وکیل ہوں۔انہوں نے فرمایا معاملہ دلچسپ ہے اور مسول علیہم کا موقف معقول معلوم ہوتا ہے۔تم خود ہی کیوں پیش نہیں ہو جاتے۔میں نے عرض کیا مسئول علیہم میرے سابق محلہ والہ ہیں اور مجھے اس معاملے میں گویا ذاتی دلچسپی ہے۔میں چاہتا ہوں کہ اس مرحلے پر ہر مناسب احتیاط کمر لی جائے۔انہوں نے پیروی کرنا قبول فرما لیا۔اور میں نے دوسرے دن ایک مفصل ٹائپ شدہ مقدمہ کا بیرلیف ان کی خدمت میں پیش کر دیا جس کے بعد انہیں کسی مزید تیار ہی کی زحمت اٹھانا نہ پڑی۔اپیل کی سماعت مسٹر جسٹس مارٹینو کے اجلاس میں ہوئی۔اپیلانٹ کے وکیل کی بحث سننے کے بعد حج نے اپیل خارج کر دی۔ہماری طرف سے بحث کی نوبت نہ آئی۔منتری غلام حسین صاحب طبعاً بہت خوش تھے۔لیکن میرے لئے اس قبیٹے کا یوں طے پانا کئی وجوہ سے بہت اطمینان کا موجب تھا۔