تحدیث نعمت — Page 179
149 میدان میں نمازہ مغرب ادا کریں۔کچھ سیر بھی ہو جائے گی اور درستری صاحب کے مقدمے میں کامیابی پر اللہ تعالٰی کے شکر کا موقعہ بھی میسر آجائے گا۔والد صاحب کی اس تجونیہ کی تہ میں شاید یہ خواہش بھی ہو کہ اس موقعہ پر ہم سب اس مقام کے قریب نمانہ ادا کریں جہاں انہوں نے لاہور میں اپنی طالب علمی کے زمانے کا اکثر حصہ اس حالت میں گذارا تھا کہ کسی ایک وقت بھی سیر ہو کر کھانا نہ کھایا۔اس زمانے میں والد صاحب کی رہائش اور منٹل کالج کے ہوسٹل میں ہوا کہتی تھی جو حضوری باغ کے گری کے حجروں میں تھا۔ان حجروں کے جھرو کے اس میدان کی طرف کھلتے تھے جس میں والد صامو نے خانہ مغرب ادا کرنا تجویز کیا۔چنانچہ مستری غلام حسین صاحب، سید النعام اللہ شاہ صاحب ، سید افضل علی صاحب ، پچودھری بشیر احمد صاحب اور میںنے والد صاحب کی اقتداء میں نماز مغرب اس مقام پر ادا کی جہاں ان کی خواہش تھی۔نانہ ختم ہونے پر ہم نے دیکھا کہ لمبی کی طرف آگ کے شعلے اٹھ ر ہے ہیں۔ہم جلد اپنی قیام گاہ کی طرف لوٹے اور قریب پہنچ کر معلوم ہوا کہ سینما کی عمارت تمام کی تمام آگ کی لپیٹ میں ہے۔اس وقت تک آگ کے شعلے اسقدر بلند ہو رہے تھے کہ اردگرد کی تمام عمارہ ہیں روشن ہو رہی تھیں اور حرارت استفار تھی کہ سو سو گز تک برداشت نہ ہو سکتی تھی۔جب عمارت میں آگ شروع ہوئی۔سینما بھاری تھا اور عمارت تماش بینوں سے بھری ہوئی تھی۔تماش بینوں کو بڑی سرائیکی اور ہر اس کی حالت میں بھاگنا پڑا۔آگ کے شعلوی کی روشنی ہمارے مکان تک آتی تھی۔نصف شب کے بعد کہیں جاکہ آگ کے شعلے دیے ہوئے اور آگ قابو میں آئی۔دوسرے دن دیکھا کہ عمارت کی شدت 1919 سے مسمار شدہ اعمارت کے بھاری آہنی گالہ ڈر بک کر نیچے گر چکے تھے۔مارچ ء میں میری طبیعت میں بڑے زور سے خیال پیدا ہوا کہ گرمیوں کے موسم میں اگر راہش زور سے خیال کہ کے موسم کا انتظام شہر سے باہر کسی کھلی جگہ ہو جائے تو نسبتاً آرام دہ ہو گا۔انہیں دنوں اخبارہ میں ایک اشتہا دیکھا کہ ڈیوس روڈ پر ایک نبنگلہ کچھ مہینے کے لئے بارعایت کرائے پر مل سکتا ہے۔اس کے کرا یہ جہانہ ایک رئیس زادے تھے جو چیفینس کالج میں تعلیم حاصل کر رہے تھے ان کے چھوٹے بھائی بھی رہیں تو م پاتے تھے اور ان کے ساتھ ہی بنگلے میں رہتے تھے۔اب دونوں بھائی چیفس کالج سے تعلیم ختم کر کے پانے والے تھے۔بنگلے کے کرایہ داری کی میعاد میں ابھی کچھ ماہ باقی تھے اس عرصے کے لئے وہ نکلے کو کرایہ پر دینے کے خواہشمند تھے اور واجبی کرا یہ لینے پر رضامند تھے۔سید افضل علی صاحب نے جب پالیسی کمیٹی میں کام شروع کیا تو انہوں نے اپنی رہائش کا علیحدہ انتظام کر لیا تھا۔میں نے انہیں تحریک کی کہ درہ میرے ساتھ شامل ہو جائیں۔انہیں کچھ تامل تھا لیکن رضامند ہو گئے۔ڈیوس روڈ سے ہمارے